یروشلم رائے دہی کا فلسطینیوں کا بائیکاٹ

افادیت پر مباحث جاری ‘ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں دونوں کو تبدیلی کی توقع نہیں
یروشلم ۔ 28اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) یروشلم کے رائے دہندے منگل کے دن اپنا حق رائے دہی بلدی انتخابات میں استعمال کریں گے جب کہ یروشلم کے ساکن فلسطینی اس بات پر مباحث منعقد کررہے ہیں کہ کوئی بھی امیدوار ان کے ووٹ کا مستحق نہیں ہے ۔ فلسطینیوں کی اکثریت جو تقریباً تین لاکھ ہے توقع ہے کہ رائے دہی کا دوبارہ بائیکاٹ کریں گے ‘ حالانکہ اقلیتی طبقہ نے انتخابات کے دوران حق رائے دہی سے استفادہ پر زور دیا ہے تاکہ شہر پر برسوں سے قائم اسرائیلی قبضہ برقرار رہے ۔ رامی نصراللہ ڈائرکٹر جنرل مشرقی یروشلم بین الاقوامی امن و تعاون مرکز رائے دہی سے کسی فائدہ کی توقع نہیں رکھتے ‘ اسرائیل شہر کے مشرقی علاقہ پر جو مغربی کنارے کے اطراف ہے قابض ہے ۔ چھ روزہ سابق جنگ کے دوران اسرائیل نے اس علاقہ پر قبضہ کرلیا تھا بعد ازاں اسے مشرقی یروشلم میں ملحق کرلیا گیا ۔ اس اقدام کو بین الاقوامی برادری نے کبھی بھی تسلیم نہیں کیا ۔ فلسطینیوں کا دعویٰ ہے کہ مستقبل کی مملکت فلسطین کا دارالحکومت یروشلم ہوگا ۔ فلسطینی رائے دہندے ووٹنگ میں صرف ایک فیصد حاضر ہوتے ہیں ۔ 2013ء میں صرف ایک فیصد فلسطینی رائے دہندوں نے اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کیا تھا ۔ بلدیات اور مقامی مجالس پورے ملک اسرائیل میں منگل کے دن رائے دہی منعقد کررہی ہیں ۔ یروشلم میں محدود تعداد میں فلسطینی امیدوار مقابلہ کے میدان میں ہے ۔ تاہم دیگر امیدواروں نے فلسطینیوں پر تنقید ‘ دھمکیاں دینا‘ قانونی مسائل پیدا کرنا ترک کردیا ہے ۔ جن لوگوں نے اپنی امیدواری سے دستبرداری اختیار کرلی ہے ان میں عزیز ابو سارا بھی شامل ہیں ۔ جنہوں نے اپنے ارادہ کا اظہار کردیا ہے ۔وہ شہر کے میئر کے عہدہ کیلئے انتخابات میں حصہ لے رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ فلسطینی اپنے بائیکام کے فیصلہ پر نظرثانی کرے ۔ وہ اپنی انتخابی مہم کے دوران مخاطب کررہے تھے ‘حالانکہ انہیں فلسطینیوں اور اسرائیلوں دونوں کی تائید حاصل ہورہی ہے ۔ تاہم اُن کا کہنا ہے کہ دونوں طبقہ کے افراد نے ایک تقریب کے دوران اُن پر حملہ کیا تھا ۔ بعد ازاں انہوں نے اسرائیلی عہدیداروں سے کہہ دیا کہ یروشلم کے موجودہ موقف پر ازسرنو غور کیا جانا چاہیئے ۔ان کے بیرون ملک سفر کی بناء پر ایسا کیا جارہا ہے ۔ کیونکہ انہوں نے بیرون ملک ملازمت حاصل کرلی ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اب شہر کے ساکن برقرار نہیں رہے ۔ سیاسی مفادات رکھنے والے گروپ دونوں طبقات میں امید رکھتے ہیں کہ رائے دہی کے بعد بھی جوں کا توں حالت براقر رہے گی۔