کراچی ۔15ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام ) پاکستانی ہاکی ٹیم کے چیف کوچ شہناز شیخ نے کہا ہے کہ چیمینس ٹرافی ہاکی ٹورنمنٹ کے فائنل سے قبل ایف آئی اے کی جانب سے کی جانے والی کارروائی کی وجہ سے کھلاڑیوں کی توجہ کھیل سے ہٹ گئی تھی جس کی وجہ سے فائنل میں ان کی کارکردگی متاثر اور ردہم برقرار نہیں رہا۔ فائنل میں تماشائیوں کے رویے کی وجہ سے یورپ کی ہاکی جیت گئی ایشائی ہاکی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ حالاں کہ تماشائیوں کو ایشائی ٹیم ہونے کی وجہ سے ہماراحوصلا بلند کرنا چاہئے تھا ۔ پاکستانی ہاکی ٹیم کے کپتان محمد عمران نے کہا ہے کہ ہم چیمپئنس ٹرافی میں اپنے مقصد سے زیادہ کامیابی حاصل کر کے وطن واپس آرہے ہیں۔ کھلاڑی بس کے ذریعے ہندوستان گئے تھے امید ہے کہ ہم جیسے یتیم کھلاڑیوں کی عوام وطن واپسی پر دل کھول کر پذیرائی کرے گی۔ ٹیم کے ہیڈ کوچ شہناز شیخ کے بموجب فائنل میں امپائرس کے تین فیصلے ہمارے خلاف گئے جس کی وجہ سے پاکستانی ٹیم کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ امپائر نے ایک پنالٹی کارنر اور ایک پنالٹی اسٹروک ہمارے خلاف دیا جبکہ پاکستانی فاروڈ کی رفتار کو روکنے کیلئے میچ میں دو تین بار غلط سٹی بجائی گئی تاہم انہوں نے کہا کہ فائنل میں ہمارا کھیل زیادہ خراب نہیں رہا، جرمنی کی ٹیم یورپ کی مضبوط ٹیم ہے جس کے خلاف ہم نے بہت زیادہ گول نہیں ہونے دیے۔ شہناز شیخ نے کہا کہ یورپی ٹیم کے خلاف ہم کئی برسوں سے نہیں کھیل رہے ہیں اس کے باوجود ہم نے ہالینڈ کو شکست دی ۔ ہندوستانکو شکست دی اور برونز میڈل سے سلور میڈل جیتنے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ہدف سر فہرست 4 ٹیموں میں جگہ بنانا تھا اور ہم وکٹری اسٹینڈ پر آئے یہ ہماری بڑی کامیابی ہے چونکہ دفاعی چیمپئن آسٹریلیا کی ٹیم اپنے خطابکا دفاع کرنے میں ناکام رہی اس برعکس ہم نے بہتر مظاہرہ کیا۔