ہندو۔مسلم اتحاد کو سخت امتحان کا سامنا

نئی دہلی ۔ 13 جنوری ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیراعظم منموہن سنگھ نے اس تاثر کا اظہار کیا کہ ہندو ۔ مسلم تعلقات ایک سخت امتحان سے گذر رہے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انھوں نے نریندر مودی کو نشانہ بنایا ہے اور ملک کے عوام سے اپیل کی کہ وہ ان عناصر سے چوک رہیں جو سیکولرزم کی ’’دوبارہ تشریح‘‘ کرتے ہوئے ہندوستانی سیکولر فکر کے خلاف کام کررہے ہیں ۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے اقلیتوں کو راغب کرنے کی کوشش کے طورپر مسلمانوں کی تعلیمی و سماجی پسماندگی کے انسداد کیلئے ان کی حکومت کی طرف سے کئے گئے مختلف اقدامات کا تذکرہ کیا جن میں روزگار، قرض اور فلاحی اسکیمات میں ان کا حصہ بھی شامل ہے۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے یہاں ایک ریاستی اقلیتی کمیشن کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی طاقت و استحکام اتحاد میں مضمر ہے۔

انھوں نے تخریب کار اور انتشارپسند قوتوں کے خلاف عوام کو خبردار بھی کیا۔ اترپردیش کے ضلع مظفرنگر میں حالیہ فرقہ وارانہ فسادات کا بالواسطہ حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہا کہ ’’ملک کے اکثر حصوں میں اکثریتی اور اقلیتی طبقات کے مابین ہم آہنگی اور خوشگوار تعلقات ہیںاگرچہ ایسی بھی مثالیں ہیں کے جہاں ہندو مسلم تعلقات کو سخت امتحان و آزمائش کا سامنا ہے ‘‘۔ انھوں نے کہا کہ ’’اس قسم کے ہنگامے ہمارے ملک اور سماج کی ساکھ کو داغدار بناتے ہیں اور یہ واقعات متاثرہ عوام میں تکلیف اور مصائب پیدا کرتے ہیں‘‘۔