چدمبرم
سابق وزیر داخلہ و فینانس
جب میں جوانوں سے بات کرتا ہوں جن کی عمریں 25 برس سے کم ہوں تو ان کی توجہ اپنی جانب مبذول کرنے کے لئے بہترین ذریعہ یہ تھا کہ انھیں کہوں کہ وہ ایک ٹرنک کال بک کریں یا پھر ایک اسکوٹر خریدیں۔ ماضی کے اچھے دنوں میں بسنے والا نوجوان اس اختتامیہ پر پہنچ جاتا تھا کہ کیا میں کہانیوں کا موجب بن رہا ہوں یا تجربات کو ایجاد کرنے والا بن رہا ہوں۔ کیا ٹیکنالوجی تبدیل ہوچکی ہے یا پھر یہ سوچنے لگتا کہ کیا میں ان کے دادا کی عمر کا ہوگیا ہوں جن کا 10 برس قبل انتقال ہوا ہے۔ اس وقت کی کہانی کا ہر لفظ حیثیت کی ترجمانی کرتا تھا اور اس وقت کی ہندوستانی آبادی کا 65 فیصد حصہ جن کی عمریں 35 برس کے اندر ہوتی تھیں انھیں یہ نہیں معلوم ہوتا تھا کہ اس ملک میں زندگی بسر کرنے کا مقصد کیا ہے اور انھیں اس بات کا علم نہیں ہوتا تھا کہ معاشی اُصولوں کی نگرانی اسٹیٹ کے کنٹرول میں ہے، لائسنس، ٹیکس کی بڑی شرح، زراعت کے علاوہ خانگی شعبہ اور دیگر اہم چیزوں کی پالیسی بنانے والے ہمارے لیڈر نہیں ہوتے حالانکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے لیڈر اعلیٰ تعلیم یافتہ ذہن اور خود غرضی کی لعنت سے پاک ہوتے تھے۔ ہماری منتظمین ایسے مرد و خواتین ہوتے تھے جوکہ اپنے اپنے حلقوں میں انتہائی باصلاحیت ہوتے تھے اور یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمارے یہاں جامعات کی تعلیم موجود ہے لیکن ان تمام کے باوجود (ترقی کی رفتار تکلیف دہ ہوتی تھی اور مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کی ترقی کی شرح میں کافی سست ہوتی تھی۔ آزادی کے 30 سال بعد بھی اس کی شرح رفتار کافی سست تھی اور سالانہ اس کی اوسط 3.5 فیصد ہوتی تھی۔ اس طرح سست رفتار معاشی ترقی کو معاشی نظام میں ’’اترکی‘‘ کہا جاتا ہے جس سے مراد یہ ہوتا ہے کہ یہ ترقی خود مکتفی ہوتی ہے۔ اس طرح مجموعی ملکی پیداوار کو چین نے 1978 ء میں قابو میں کرلیا تھا جبکہ ہندوستان نے ’’اترکی‘‘ پر 1991 ء میں قابو پایا ہے۔ اترکی نہ کبھی فوت ہوتی ہے اور نہ ہی اسے 6 گز کے گڑھے میں دفن کیا جاسکتا ہے بلکہ وقتاً فوقتاً یہ اپنا سر اُٹھانے لگتی ہے اور یہی کچھ این ڈی اے کی بی جے پی حکومت میں دکھائی دے رہا ہے۔ مارکٹ دوست اور تجارت دوست اور زمین آسمان کا فرق ہے اور آر ایس ایس نے معاشی قومیت کی حمایت کی ہے۔ ملکی اور خود مکتفی نظریات کی وکالت کی ہے اور اس کے ٹریڈ یونین بھارتیہ مزدور سنگھ نے بیرونی سرمایہ کاری کی مخالفت کی ہے۔ حالیہ مہینوں میں بی جے پی نے ان اُصولوں کو ترمیم کے ساتھ دوبارہ استعمال کیا ہے۔ جوکہ ہائپر قوم پرستی کے ترجمان ہیں جنھیں بہت پہلے ہی ختم کردیا گیا تھا۔ چلئے چند مثالوں پر غور کرتے ہیں۔ حکومتوں سے قطع نظر مارکٹ موجود۔ مارکٹ معاشی خود مکتفی اور آزادی کو فروغ دیتی ہے اور مارکٹ کو آسان قواعد اور ضوابط کے ساتھ آگے بڑھانا ہے اور حکومت کو صرف چند ایک مواقع پر ہی مداخلت کرنا چاہئے۔ ایسے ممالک جہاں کی جمہوریت عوام کی مقبول ترین حکومت ہے وہ بھی مارکٹ کو معاشی فلسفی کے ساتھ ہم آہنگ رکھتے ہیں ار یہ نیویا کے ممالک کی مثال ہے۔ مارکٹ کی معیشت پر بی جے پی کا موقف مشکوک ہے حالانکہ اس نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ان کے فیصلے اور پالیسیاں تجارت دوست ہیں۔ جبکہ حیثیت میں اس کی پالیسیوں میں مقداری تحدیدات، قیمتوں کا کنٹرول، لائسنس اور پرنٹ، ٹیرف اور نان ٹیرف کو سخت کردیا گیا ہے۔ معیشت پر 2014 ء سے زیادہ اب تحدیدات عائد کردی گئی ہیں اور ہر فیصلہ مفادات کے حصول کے ایک خاص گروپ کے ذریعہ کیا جارہا ہے جس کا تعلق ایک خاص تاجر گھرانے سے ہے۔
دوسری مثال یہ بھی دی جاسکتی ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے عالمی معیشت نے ترقی کی ہے اور کسی زمانے میں وہ چھوٹے ممالک جوکہ معاشی اعتبار سے پسماندہ قرار دیئے جاتے تھے وہ آج ترقی یافتہ اور معاشی امتیاز سے طاقتور ممالک میں شمار ہوچکے ہیں جن میں خاص کر سنگاپور اور تائیوان قابل ذکر ہیں۔ 1995 ء سے ہی ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن نے باہمی اور ہمہ ملکی تجارت کے فروغ کے لئے صنعتی معاہدے متعارف کرواتے ہیں لیکن بی جے پی کی زیرقیادت حکومت کو ان پالیسیوں پر یقین نہیں ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی تحفظاتی پالیسیوں کی حمایت کی ہے۔ تحفظاتی پالیسیاں صارفین کے لئے نقصان دہ ہوتی ہیں۔اس طرح کی پالیسیوں سے مانگ میں کمی ہونے کے علاوہ سرمایہ کاری کے غلط فیصلے اور وسائل کا غلط استعمال ہوتا ہے۔ مجھے اس پر بھی تعجب ہے کہ درآمدات میں کمی کے لئے ٹاسک فورس بھی تشکیل دیا گیا ہے۔ ای کامرس کے لئے تیار کردہ مسودہ قانون اس کی تازہ مثال ہے جوکہ معاشی سوچ کو تباہ کرنے کے لئے کافی ہے۔
مسائل کو صرف اور صرف بیوروکریسی کو خود مختار بناکر ہی ختم کیا جاسکتا ہے اور خاص کر ٹیکس کے عہدیداروں اور سرمایہ کاری کی ایجنسیوں کو بااختیار بنانا ناگزیر ہوگا۔ جبکہ بی جے پی نے اس کے برعکس تلاش، ضبط اور گرفتار جیسے عہدوں کو زیادہ بااختیار بنایا ہے جس کی بہترین مثال ماضی میں فارن ایکسچینج مینجمنٹ دفعہ غیر فوجداری ہوتا تھا لیکن اب یہ فوجداری جرم کے زمرے میں شامل کردیا گیا ہے۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے نفاذ نے ہندوستان کی معیشت کو تباہ کردیا ہے اور مجھے ڈر ہے کہ ان معیشت دشمن پالیسیوں کی ہندوستان کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔
pchidambaram.india@gmail.com