اڈیلیڈ۔14فبروری( سیاست ڈاٹ کام ) آئی سی سی ورلڈ کپ 2015ء کے جس دلچسپ مقابلہ کا کروڑہا کرکٹ شائقین کو انتظار تھا اس کیلئے اسٹیج مکمل طور پر سج چکا ہے اور دفاعی چمپئن ہندوستان کٹر حریف پاکستان کے خلاف نہ صرف مقابلہ کیلئے تیار ہے بلکہ مصباح الحق کی زیرقیادت پاکستانی ٹیم کو شکست دے کر ورلڈ کپ میں اپنے ریکارڈ کو 5-0 سے 6-0 کرنے کے لئے کوشاں ہے ۔ دوسری جانب پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے کہا ہے کہ ان کی ٹیم ورلڈ کپ کے کامیاب آغاز کے ذریعہ ہندوستان کے خلاف تاریخ کو بدلنے کیلئے تیار ہے ۔ آسٹریلیا کے شہر اڈیلیڈ میں ہندوستان اور پاکستان 15برس بعد یہاں بیرونی سرزمین پر ایک دوسرے کے مدمقابل ہورہے ہیں ۔ ہندوستانی ٹیم جو کہ تقریباً گذشتہ دیڑھ ماہ سے آسٹریلیا میں موجود ہے لیکن میزبان ٹیم کے خلاف ٹسٹ سیریز میں اور پھر انگلینڈ کے ہمراہ سہ رخی سیریز میں اسے ایک بھی کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے ۔
افغانستان کے خلاف منعقدہ آخری وارم اپ مقابلہ میں ہندوستانی ٹیم دورہ آسٹریلیا کے موقع پر بالآخر پہلی کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہوہی ہے ۔ دوسری جانب پاکستانی ٹیم نے اپنے وارم اپ مقابلوں میں بنگلہ دیش اور انگلینڈ کے خلاف فتوحات حاصل کی ہے جس سے ٹیم کے کھلاڑیوں کے حوصلے کافی بلند ہیں ۔ اڈیلیڈ میںہندوستان نے آسٹریلیا کے خلاف اپنا وارم اپ مقابلہ کھیلا تھا جس میں میکس ویل کی بے رحم بیٹنگ نے ہندوستانی بولروں کے حوصلے پست کردیئے ہیں ۔ ہندوستانی ٹیم کے اہم بیٹسمین خصوصاً اننگز کے آغاز میں شکھر دھون اور ویراٹ کوہلی کی ناکامی کے بعد کپتان مہیندر سنگھ دھونی کا لوور آرڈر میں ناکام ہونا ہندوستان کیلئے تشویشناک ہے جب کہ پاکستانی طویل قد فاسٹ بولر محمد عرفان نے اپنی اس خواہش کا اظہار کردیا ہے کہ وہ ہندوستانی ٹیم کے اہم بیٹسمینوں کو جلد آؤٹ کرتے ہوئے اپنی ٹیم کی کامیابی میں کلیدی رول ادا کرنا چاہتے ہیں ۔ عرفان کے نشانہ پر ویراٹ کوہلی اور مہیندر سنگھ دھونی کے علاوہ اوپنرس میں روہت شرما موجود ہے ۔ بیٹنگ کے علاوہ بولنگ میں بھی ہندوستان کو مسائل کا سامنا ہے کیونکہ ٹیم کے اہم فاسٹ بولر بھونیشور کمار ٹخنے کی تکلیف میں مبتلا ہیں اور انہیں صدفیصد فٹ قرار نہیں دیا جارہا ہے ۔ اسپین شعبہ میں رویندر جڈیجہ اور اکشر پٹیل کی شمولیت کا قوی امکان ہے ۔پاکستان کیلئے اوپنرس کے ناقص مظاہروں کے علاوہ سینئر بیٹسمین یونس خان کے فام سے بھی پریشانی لاحق ہے
کیونکہ نمبر تین پر بیٹنگ کرتے ہوئے نہ صرف وہ بہت زیادہ گیندیں کھیل رہے ہیں بلکہ رنز بھی نہیں بنارہے ہیں ۔ پاکستان کیلئے صہیب مقصود ‘ عمر اکمل اور شاہد آفریدی کے ہمراہ کپتان مصباح الحق کا شاندار فام خوش آئند ہے جیسا کہ ان کھلاڑیوں نے نیوزی لینڈ کے خلاف دو ونڈے مقابلوں کی سیریز اور ورلڈ کپ سے قبل دو وارم اپ مقابلوں میں بہترین مظاہرہ کیا ہے ۔ اڈیلیڈ کی وکٹ پر بڑے اسکور کی امید کی جارہی ہے کیونکہ آسٹریلیا نے ہندوستان کے خلاف وارم اپ مقابلہ میں 371رنز بنئے تھے جس کے بعد افغانستان کے خلاف ہندوستان نے 364رنز کا اسکور بنایا ہے ۔ پاکستان کے خلاف قطعی 11کھلاڑیوں کے متعلق کہا جارہاہے کہ بھونیشور کمار کو مکمل صحت یاب ہونے کا موقع دینے کے علاوہ اکشرپٹیل کو بھی قطعی 11کھلاڑیوں میں شامل نہیں کیا جاسکتا ہے کیونکہ جڈیجہ کے تجربے کو نوجوان اسپنر پر ترجیح دی جارہی ہے۔