رانچی ۔ 17 جون ۔ ( سیاست ڈاٹ کام) سی پی آئی ( ایم ) نے آج ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ بائیں بازو کی یہ جماعت نریندر مودی حکومت کی کارکردگی کا انتہائی گہرائی سے مشاہدہ کرے گی اور یہ دیکھنا چاہے گی کہ مودی حکومت نے جو بھی وعدے کئے ہیں اُن کی تکمیل ہوتی ہے یا نہیں ۔
پارٹی کی رکن پولیٹ بیورو برنداکرت نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نریندر مودی کی قیادت والی بی جے پی حکومت کی کارکردگی کا قریب سے جائزہ لینے کمربستہ ہوچکے ہیں۔ برنداکرت نے اس موقع پر حکومت راجستھان پر بھی تنقید کی جہاں حال ہی میں لیبر ایکٹ میں ترمیم کی تجویز پیش کی گئی ہے جس کے تحت انڈسٹریل ڈسپوٹ ایکٹ ، 1970، فیکٹریز ایکٹ 1948 ء اور کنٹراکٹ لیبر ایکٹ ، 1970 ء میں ترمیمات متوقع ہیں۔ انھوں نے کہاکہ راجستھان میں بی جے پی کی تمام 25 نشستوں پر کامیابی کے بعد اب من مانی کی جارہی ہے لیکن لیبرس کے مفاد کیلئے سی پی آئی ( ایم ) نے اپنی جدوجہد ہمیشہ جاری رکھنے کا حکومت کو انتباہ دیا۔ برنداکرت جھارکھنڈ کے لئے پارٹی انچارج ہیں۔
انھوں نے مرکزی حکومت کے اُس فیصلہ کو بھی ہدف تنقید بنایا جہاں سردار سروور ڈیم کی اونچائی میں 138.52 میٹر اضافہ کی اجازت دی گئی ہے جبکہ تین ریاستوں میں عوام کے بے گھر ہوجانے کے مسئلہ کو یکسر نظرانداز کردیا گیا ہے۔ دیگر پارٹیاں بھی بی جے پی کو تکبر نہ کرنے کی صلاح دے رہی ہیں۔ اگر بی جے پی نے واضح اکثریت حاصل کی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اپوزیشن کا وجود ہی نہیں ہے ۔ اپوزیشن اگر کمزور بھی ہو تو اپنی بات منوانے کی اہلیت رکھتا ہے اور ضروری نہیں کہ مرکز کے کسی بھی فیصلے کو حکمراں جماعت کے تمام قائدین کی تائید حاصل ہو۔