ممبئی۔ 23 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) پارٹی اور حکومت کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان مہاراشٹرا اسمبلی انتخابات میں کانگریس پارٹی کی اہمیت کو کم کرنے کی وجہ بنا۔ بعض ریاستی کانگریسی قائدین نے کہا کہ ریاستی شاخ میں مکمل ردوبدل اور تعمیر جدید ناگزیر نظر آتی ہے چونکہ کانگریس کو 288 رکنی اسمبلی میں صرف 42 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ سینئر کانگریس قائدین رادھا کرشنا وکھے پاٹل اور محمد عارف نسیم خان کے علاوہ امیت دیشمکھ، لاتور کے رکن اسمبلی اور سابق چیف منسٹر آنجہانی ولاس راؤ دیشمکھ کے فرزند نے صدر پارٹی سونیا گاندھی سے کل انتخابی نتائج پر تبادلہ خیال کیلئے علیحدہ طور پر ملاقات کی۔ ذرائع کے بموجب جس انداز میں انتخابی مہم چلائی گئی اس پر پارٹی کارکنوں میں زبردست ناراضگی پھیلی ہوئی ہے۔
ایک قائد نے شناخت پوشیدہ رکھنے کی شرط پر کہا کہ حکومت اور ریاستی شاخ کے درمیان کوئی ہم آہنگی نہیں تھی۔ امیدواروں کو کوئی مدد فراہم نہیں کی گئی۔ تبادلہ خیال کے دوران صدر کانگریس نے اشارہ دیا کہ ریاستی شاخ کی مکمل تعمیر جدید ضروری ہے تاکہ کارکنوں کے حوصلے بلند کئے جاسکیں۔ علاوہ ازیں ریاستی اسمبلی انتخابات سے قبل پارٹی کی دیرینہ حلیف نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) نے بھی کانگریس سے اتحاد ختم کرکے اپنے بل بوتے پر اسمبلی انتخابات کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کا بھی کانگریس اور این سی پی انتخابی نتائج پر تباہ کن اثر مرتب ہوا، حالانکہ شیوسینا نے بھی اپنے دیرینہ اتحادی بی جے پی کا ساتھ چھوڑ دیا تھا، لیکن اسے این سی پی کی تائید حاصل ہوئی ۔