ہمہ مقصدی پراجکٹ ناگرجنا ساگر کی سطح میں تیزی سے اضافہ

گذشتہ تین برسوں بعد سطح آب میں اضافہ پر کسانوں میں مسرت
نلگنڈہ /17 اگست ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ایشیا کا سب سے بڑا ہمہ مقصدی پراجکٹ ناگرجنا ساگر کی سطح آب میں تیزی سے اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ گذشتہ تین برسوں بعد ماہ اگست میں سطح آب میں اضافہ ہونے پر کسانوں میں مسرت کا اظہار کیا جارہا ہے چند دنوں سے پڑوسی ریاست کرناٹک میں ہو رہی بارش سے المٹی اور سری سیلم میں پانی کی تیز بہاؤ پر کرشنا ندی کو پانی کو چھوڑا جارہا ہے ۔ ناگرجنا ساگر پراجکٹ کی مکمل سطح آب 590 فٹ ہے اور 312.05 ٹی ایم سی پانی کا ذخیرہ کیا جاسکتا ہے ۔ ساگر پراجکٹ میں آج 528.80 فٹ 164.1 ٹی ایم سی پانی کا ذخیرہ ہونے کی عہدیداروں کو اطلاع دی ۔ پراجکٹ کا ان فلو 73810 کیوزک آوٹ فلو 7996 کیوزک کیا جارہا ہے گذشتہ چند دنوں سے ریاست کرناٹک و اطراف میں ہو رہی بارش کی وجہ سے المٹی ڈیم کی سطح آب مکمل ہوئی جس کی وجہ وہاں سے پانی کو نارائن پور جوالا سے سری سیلم پراجکٹوں میں پانی چھوڑا جارہا ہے ۔ پانی کے تیز بہاؤ پر سری سیلم پراجکٹ کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ سری سیلم پراجکٹ کی مکمل سطح آب 885 فٹ ہے جس میں 215.81 ٹی ایم سی ذخیرہ کیا جاسکتا ہے ۔ پراجکٹ کی تیزی اضافہ ہو رہا ہے ۔ سری سیلم پراجکٹ کی سطح آب 877.70 فٹ ہے اور 176.74 ٹی ایم سی کا ذخیرہ رہنے پر عہدیداروں نے تیز بہاؤ کو دیکھتے ہوئے پراجکٹ سے 100435 کیوزک پانی کو کرشنا ندی میں چھوڑ رہے ہیں ۔ سری سیلم کا ان فلو 302326 ہے ۔ گذشتہ تین برسوں سے ماہ اگست میں ناگرجنا ساگر پراجکٹ کا ڈیڈ اسٹوریج 510 کو برقرار رکھا جاتا تھا ۔ لیکن سال گذشتہ تلنگانہ حکومت نے جوڑواں شہر حیدرآباد و سکندرآباد کی عوام کو پینے کے پانی کی سربراہی اور کسانوں کو ایک لاکھ ایکر اراضی کو سیراب کروانے کیلئے 510 کو برقرار رکھتے ہوئے پانی کو چھوڑا گیا لیکن جاریہ سال ماہ اگست میں کرشنا ندی میں پانی کے تیز بہاؤ کی وجہ پراجکٹ کی سطح آباد میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے ۔ جس کی وجہ جاریہ فصل خریف میں آبپاشی کیلئے پانی کی سربراہی کی توقع کی جارہی ہے ۔ ناگرجنا ساگر پراجکٹ سے 6 لاکھ ایکر اراضی کو سیراب کرنے کے علاوہ حیدرآباد و سکندرآباد نلگنڈہ و دیگر فلورئیڈ سے متاثرہ علاقوں کو اے ایم آر پراجکٹ کو آبی سربراہی کی جاتی ہے ۔