گیارہ سال کے لڑکے کو خود اس کے والدین نے دھوکہ دیا

واسکوڈی گاما۔ 9 مئی (سیاست ڈاٹ کام) گیارہ سالہ سمیربگوڈا نے دبئی جانے کا خواب دیکھا تھا لیکن وہ شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا کیونکہ اس کے خودغرض والدین اسے گوا ایرپورٹ پر چھوڑ کر چلتے بنے۔ جاتے وقت اس کے ہاتھ میں 500 روپئے تھما دیئے اور کہا کہ وہ فوری اپنے گاؤں ستارہ واپس چلا جائے۔ سمیربگوڈا کو گوا کے ڈابولیم ایرپورٹ پر پایا گیا جو دارالخلافہ پنجی سے 40 کیلو میٹر دور ہے۔ وہ اپنے والدین کو دوبارہ دیکھنے کا خواہاں تھا۔ پولیس نے جو واقعہ بتایا وہ اس طرح ہے۔ سمیر اپنے والدین شیوانی اور شوبھابگوڈا کے ساتھ ایرپورٹ پہنچا تھا۔ اس سے یہ کہا گیا تھا کہ وہ سب لوگ (تمام ارکان خاندان) دبئی جارہے ہیں۔ یہ سن کر سمیر بہت زیادہ خوش ہوگیا لیکن ایرپورٹ پہنچنے کے بعد سمیر کو زبردست جھٹکا اس وقت لگا جب ماں باپ نے اس کے ہاتھ میں 500 کا نوٹ دیا اور کہا کہ وہ ستارا واپس چلا جائے اور اسے ایرپورٹ پر ہی چھوڑ کر چلے گئے۔ اس واقعہ کی تحقیقات کرنے والے آفیسر کا ادعا ہیکہ بگوڈا خاندان نے ایک روز قبل ہی ستارہ سے گوا کا سفر بذریعہ ٹرین کیا تھا۔

پولیس آفیسر نے سب سے پہلے سمیر کو ایک بیاگ کے ساتھ ڈابولیم ایرپورٹ کے باہر دیکھا۔ وہ کھویا کھویا اور الجھن کا شکار تھا۔ جب پولیس آفیسر نے اس سے استفسار کیا تو وہ بالکل سکتہ میں تھا جیسے اسے کوئی گہرا صدمہ پہنچا ہو۔ سمیر پولیس آفیسر کو اپنے بارے میں کوئی تفصیلات بتانے سے قاصر تھا لیکن پولیس آفیسر کے دوستانہ رویہ سے بہرحال اس کی کیفیت میں تبدیلی ہوئی اور اس نے اپنا نام اور اپنے والدین کا نام بتایا اور یہ بھی بتایا کہ وہ کیا حالات تھے جن کے تحت وہ ایرپورٹ آیا تھا۔ پولیس آفیسر نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ سمیرکا تعلق ستارہ سے ہے کیونکہ باتوں کے دوران اس نے ستارہ کے کئی اہم مقامات کا نام بار بار لیا۔ واسکو سب ڈیویژن کے انچارج ڈپٹی پولیس سپرنٹنڈنٹ لارنیس ڈیسوزا نے بتایا کہ پولیس نے ستارہ میں اپنے ہم منصبوں سے فوری رابطہ قائم کیا لیکن اب تک وہاں سے کوئی جواب نہیں ملا ہے۔ پولیس کو پریشانی دراصل اس بات کی ہے کہ ایرپورٹ کی عمارت میں نصب کئے گئے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے سمیر کے والدین کا پتہ چلانا مشکل ہورہا ہے۔ بہرحال کوشش پھر بھی جارہی ہے۔