نئی دہلی 17 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) گورنر اتر پردیش مسٹر بی ایل جوشی نے آج استعفی پیش کردیا جبکہ نریندر مودی حکومت نے سابقہ یو پی اے حکومت کے تقرر کردہ گورنرس کی تبدیلی کی مہم شروع کردی ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ کچھ گورنرس نے ‘ جن سے استعفی کیلئے کہا گیا تھا ‘ مزاحمت بھی شروع کردی ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ گورنر کیرالا شیلا ڈکشت اور چار دوسر ے گورنرس سے مرکز نے استعفی کی خواہش کی ہے تاکہ مرکز میں نئی حکومت کی تشکیل کے بعد وہاں بھی نئے گورنر کا تقرر عمل میں لایا جاسکے ۔ سمجھا جاتا ہے کہ جن گورنرس کو معتمد داخلہ انیل گوسوامی نے استعفی کیلئے کہا ہے ان میں مہاراشٹرا کے گورنر کے شنکرا نارائنن ‘ گورنر کیرالا شیلا ڈکشت ‘ گورنر مغربی بنگال ایم کے نارائنن ‘ ناگالینڈ کے گورنر اشونی کمار شامل ہیں ۔ مودی کے چیف منسٹر گجرات دور میں ان سے بہتر تعلقات نہ رکھنے والے کملا بینی وال بھی امکان ہے کہ بدل دئے جائیں گے ۔ کہا گیا ہے کہ شنکرا نارائنن اور شیلا ڈکشت آئندہ اقدام پر غور کر رہے ہیں۔ قیاس کیا جارہا ہیکہ ان کو غیر اہم ریاستوں کو منتقل کیا جائیگا تاکہ انہیں مخالفت کا موقع نہ مل سکے ۔ کرناٹک کے گورنر ایچ آر بھردواج اور گورنر آسام جے بی پٹنائک نے کہا کہ انہوں نے استعفی نہیں دیا ہے ۔
بھردواج کی معیاد جاریہ مہینے اور پٹنائک کی معیاد تین ماہ بعد مکمل ہو رہی ہے ۔ گورنر یو پی بی ایل جوشی کا استعفی صدر جمہوریہ کو روانہ کردیا گیا ہے اور انہوں نے اسے قبول کرکے اترکھنڈ کے گورنر عزیز قریشی سے کہا کہ وہ اتر پردیش کی ذمہ داری سنبھالیں۔ یہ تبدیلیاں آج پیش آئیں جبکہ کل ہی مرکز نے کچھ گورنرس پر واضح کردیا تھا کہ انہیں مستعفی ہونا ہے ۔ کئی گورنرس دہلی میں ہے اور ان میں کچھ نے صدر جمہوریہ سے ملاقات کی ہے جس سے یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ انہوں نے استعفی پیش کردیا ہے ۔ گورنرس کے علاوہ حکومت سیاسی تقررات جیسے نیشنل ڈیزساٹر مینجمنٹ اتھاریٹی میں بھی تبدیلیوں پر غور کر رہی ہے ۔ کانگریس اور سی پی ایم نے مرکزی حکومت کے اس اقدام پر شدید تنقید کی ہے اور کہا کہ یہ غیر دستوری و غیر اخلاقی عمل ہے ۔ تاہم بی جے پی قائدین کا احساس ہے کہ اس میں کچھ غلط نہیں ہے ۔