منااکھیلی:12جون (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) حکومت فی ٹن گنے کی قیمت 2500روپئے دینے کے لئے شوگر فیکٹری کے مالکان پر دباؤ نہیں ڈال رہی ہے۔ بلکہ کسی بھی معاملہ کو حکومت سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہے۔ اس لئے بھاجپا اسمبلی میں اس معاملے کو اہمیت دیتے ہوئے اہم مسئلہ کے طورپر اٹھائے گی ۔ یہ بات سا بق وزیراعلیٰ کرناٹک اور ریاست اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر جگدیش شٹر نے کہی۔ وہ بیدر میں صحافیوں سے خطاب کررہے تھے ۔ انھوں نے آگے بتایاکہ ریاستی حکومت میں موجود کئی قائدین کی اپنی شوگر فیکٹریاں ہیں اسلئے اپنوں کو بچانے کے لئے حکومت گنے کی قیمت ادا کرنے کے بجائے اس معاملہ کو اہمیت ہی نہیں دے رہی ہے۔ ریاستوں میں نئے تعلقہ جات کی تشکیل کے ضمن میں انھوں نے بتایاکہ ریاست کی سدرامیا سرکارکو اس سے دلچسپی نہیں ہے۔ اگر نئے تعلقہ جات کی تشکیل عمل میں آتی ہے تو اس کا سہرا گذشتہ کی بی جے پی حکومت کو جائے گا۔ اس لئے موجودہ حکومت اس معاملے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ اس دفعہ ریاستی حکومت نئے تعلقوں کی تشکیل کے علاوہ ہماراگاؤں ہماری سڑک ، سورن بھومی جیسی کئی اسکیمات کو جاری نہیں کرے گی ۔ اس موقع پر بی جے پی کے ریاستی جنرل سکریٹری رگھوناتھ ملکاپورے ایم ایل سی ، شیوراج گندگے ضلع صدر ، بھگونت کھوبا رکن پارلیمان بیدر، پربھو چوہان رکن اسمبلی اوراد، راجیندر ورما ، بابووالی ، بابوراؤ مدکٹی وغیرہ موجودتھے۔