گنیش جلوسوں پر سی سی ٹی وی کی نظر ، کنٹرول روم سے راست ربط

حیدرآباد /5 ستمبر ( سیاست نیوز ) پولیس کے تعلق سے مشہور ہے کہ پولیس کی نظر سے کوئی بچ نہیں سکتا لیکن پولیس کی نظر میں آنے کیلئے اب کوئی مجرم یا جرائم پیشہ سے تعلق رکھنا ضروری نہیں بلکہ ہر ایک شہری پر پولیس کی نظر رہے گی ۔ شاہد یہ ہی وجہ ہے کہ جرائم کے انسداد کے علاوہ مجرموں کی جلد گرفتاری بھی ممکن ہو پارہی ہے ۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی بالخصوص سگنل کو عبور کرنے کے بعد کوئی شہری پولیس سے وقتیہ بچ سکتا ہے لیکن پولیس کی نظر سے بچنا مشکل ہے ۔ جس کی مثال شہر میں ہر روز تین تا چار ہزار چالانات الیٹکرانک چالان کی شکل میں کئے جارہے ہیں ۔ شہر میں پولیس لاء اینڈ آرڈر کا نظام بھلا ہی کیسا ہو لیکن ٹریفک کا نظام معیاری ہوتا جارہا ہے جو نہ صرف ٹریفک بلکہ ٹریفک سے زیادہ لاء اینڈ آرڈر کیلئے مددگار ثابت ہو رہا ہے ۔ شہر حیدرآباد میں 355 ایسے کیمرے ( سی سی ) موجود ہیں جن کی نصف تعداد ٹریفک اور نصف تعداد لاء اینڈ آرڈر کیلئے استعمال میں لائی جارہی ہے ۔ حساس اور انتہائی حساس علاقوں میں ہونے والی سرگرمیوں کا پولیس آسانی سے پتہ چلا رہی ہے ایک دور تھا کہ پولیس کو مجرموں پر انحصار کرنا پڑتا تھا اور مجرموں کا سماجی حلقوں پر زور ہوا کرتا تھا لیکن اب سی سی کیمرے پولیس کیلئے آسان ثابت ہوگئے ہیں ۔ ان 355 کیمروں کے علاوہ سٹی پولیس نے مزید 5 ہزار کیمروں کی تنصیب کا منصوبہ تیار کرلیا ہے جو تکمیل کے آخری مراحل میں ہے ۔ جس کی منظوری کو بھی مہر لگادی گئی ہے ۔ ان سی سی کیمروں کو جدید ٹکنالوجی سے مربوط کردیا گیا ہے ۔ جس کو ٹریفک پولیس اپنی زبان میں پی ٹی زیڈ کہتی ہے ۔ یعنی پان ٹلٹ زون کہا جاتا ہے جس کو کیمروں کو ہر سمت میں پولیس کنٹرول روم سے گھومایا جاسکتا ہے جو 100 تا 200 میٹر کا احاطہ 360 ڈگری پر کرسکتا ہے ۔ اس معیار کے کیمروں سے کسی بھی شہری کا قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بچنا مشکل ہی نہیں ایک طرح ناممکن بھی ہے ۔ ایم وی آئی پی زون اور بڑی سڑکوں ، چوراہوں سے لیکر حساس ، انتہائی حساس اور ہر سڑک کا یہ کیمرے پولیس کی تیسری آنکھ بنکر محاصرہ کر رہے ہیں ۔ ایک اعلی پولیس عہدیدار کے مطابق ان کیمروں کے ذریعہ کسی بھی مشتبہ شخص کی نقل و حرکت کو بہ آسانی ریکارڈ کیا جارہا ہے ۔ اس خصوص میں ٹریفک کمانڈ ای چالان شعبہ کے انسپکٹر ایم نرسنگ راؤ سے بات کرنے پر انہوں نے بتایا کہ فی الحال 355 کیمرے موجود ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ بہت جلد 5 ہزار کیمروں کی تنصیب عمل میں لائی جائے گی ۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ گنیش جلوسوں پر کنٹرول روم سے نظر رکھی جارہی ہے ۔ ان کیمروں کا راست تعلق سنٹرل کمانڈ کنٹرول سے جوڑ دیا گیا ہے جو سنٹرل کمانڈ کے اشاروں پر اپنے چاروں سمت گھومتے ہوئے کام کرتے ہیں اور سنٹرل کمانڈ کنٹرول جس مقام پر چوکس کرنا ہے فوری اطلاع فراہم کردی جاتی ہے اور کسی بھی قسم کی چوکسی کو عمل میں لانا ہو اس سنٹرل کمانڈ کے ذریعہ اسے عمل میں لایا جاتا ہے ۔