گنٹور میں جامع مسجد العظیم کا افتتاح

حیدرآباد۔19نومبر ( پریس ریلیز) اسلامی کینڈر 1436ء ہجری کے نئے سال ‘ محروم الحرام کی 20تاریخ بروز جمعہ کو ریاست آندھراپردیش کی تاریخ میں ایک زریں باب کا اضافہ ہوا ہے‘جس سے اس علاقے کے تمام مسلمانوں کے چہرے خوشی سے دمک اٹھے۔ گذشتہ روز جمعہ 14نومبر کو آندھراپردیش کے مجوزہ دارالخلافہ گنٹور کی سرزمین اور پنور جانے والی ریاستی شاہراہ پر نئی تعمیر شدہ العظیم جامع مسجد کا افتتاح نماز جمعہ کے ساتھ ہی عمل میں آیا ۔ نیلور کے عالم دین مفتی محمد عبدالوہاب نے خطبہ جمعہ پڑھا اور اس سے قبل مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں مسجد کی مرکزی اہمیت پر آپ کا بصیرت افروز بیان ہوا اور دعا فرمائی ۔ جمعہ کے روز رات بارہ بجے تک ہر نماز کے وقفے کے وقفہ کے بعد علمائے کرام کے بیانات ہوتے رہے ۔ اسمقام پر واقع پرانی مسجد کے نئے سرے سے تعمیر کرنے کیلئے این آر آئی فیروز شیخ انجنیئر ( مالک سافٹ ویر ڈیولپرس کمپنی ‘ ٹورنٹو کینیڈا) نے اپنے وطن عزیز گنٹور میں مسجد کی تعمیر کیلئے کمربادھی اور کروڑوں روپئے اس کی تعمیر میں لگائے ۔ ان کے دو بھائیوں ‘دوست احباب نے بھی مسجد کی تعمی رتک پورا پورا ساتھ دیا ۔ تمام مقامی تلگو اخبارات کی رپورٹ کے مطابق ریاست آندھراپردیش کی انگلیوں پر گنی جانے والی چند عالیشان اور خوبصورت مساجد میں یہ سرفہرست کہلانے کی بجاطور پر مستحق ہے ۔ اس مسجد کے افتتاح کے موقع پر حیدرآباد سے شرکت کرنے کیلئے مولانا حافظ مفتی سید صادق محی الدین فہیم ‘ مولانا حافظ محمد نصیر الدین کامل نظامی ‘معروف ادیب حافظ محمد جیلانی اورمحمد عمران آئے ہوئے تھے اور جمعرات ہی کے دن جگمگاتی اس مسجد کے مرکزی فانوس کے نیچے دورکعت نماز ادا کی اور دعائیں کیں۔