گمنام شعراء کے مشہور اشعار

صابر علی سیوانی ’’مثنوی مولوی معنوی‘‘ میں مولانا روم نے انسان کی آفرینش کا مقصد بیان کرتے ہوئے لکھا ہے ؎ تُو برائے وصل کردن آمدی نے برائے فصل کردن آمدی

صابر علی سیوانی
’’مثنوی مولوی معنوی‘‘ میں مولانا روم نے انسان کی آفرینش کا مقصد بیان کرتے ہوئے لکھا ہے ؎
تُو برائے وصل کردن آمدی
نے برائے فصل کردن آمدی
یعنی اے انسان تو اس دنیا میں آپسی محبت پیدا کرنے آیا ہے نہ کہ ایک دوسرے سے دوری پیدا کرنے کے لئے تجھے بھیجا گیا ہے ۔ اس خوبصورت ، سہل اور پراثر شعر میں مولانا روم نے انسانی زندگی کا فلسفہ بیان کردیا ہے ۔ شعر کی خوبی ہی یہ ہوتی ہے کہ نثر کے مقابلے اس کی اثر پذیری بدرجہا زیادہ ہوتی ہے ۔ بعض اشعار تو اپنے اندر ایسی معنویت اور دلپذیری رکھتے ہیں کہ وہ زبان زد خاص وعام بن جاتے ہیں اور صدیوں ان اشعار کا ورد وقتاً فوقتاً لوگوں کی زبان پر ہوتا رہتا ہے ۔
اردو شاعری کی تاریخ میں سیکڑوں شعراء کے کلام میں ایسی تہہ داری ، گہرائی ، گیرائی اور آفاقی حقائق کی دنیا پویشدہ ہے کہ ان اشعار کو بار بار دہرایا جاتا ہے اور یہ اشعار سینہ بہ سینہ منتقل ہوتے ہوئے ہزاروں دلوں کی زبان بن جاتے ہیں ، لیکن بعض اشعار اس طرح شہرت حاصل کرلیتے ہیں کہ ان کے خالق کے بارے میں جو روایت برسوں سے بیان کی جاتی ہے ، اسے ہی درست تصور کرلیا جاتا ہے ۔ حالانکہ بعض مشہور اشعار کے موزوں کرنے والے گمنام شعراء ہیں ، لیکن ان اشعار کو یا تو عقیدتاً کسی بڑے شاعر سے منسوب کردیا جاتا ہے ، یا شعر کی زبان ، اسلوب ، ہئیت اور لفظوں کے زیر و بم کے باعث اسے یا تو علامہ اقبال سے منسوب کردیا جاتا ہے یا میر ، غالب ، حالی ، انیس ، ذوق اور سودا وغیرہ سے اس کی نسبت درست تصور کی جاتی ہے ۔ ایسے متعدد اشعار ہیں جو گمنام شعراء کی تخلیقات ہیں ، لیکن انھیں مشہور شعراء کے کھاتے میں ڈال دیا گیا ہے اور کمال کی بات تو یہ ہے کہ ایسے کئی اشعار دھڑلے سے سیاسی اور مذہبی تقریروں میں علامہ اقبال سے منسوب کرکے پیش کئے جاتے ہیں ، جن پر زوردار تالیاں بجتی ہیں ، لیکن وہ اشعار گمنامی کے اندھیروں میں گم کسی ایسے شاعر کے ہوتے ہیں جن سے عوام تو دور خواص بھی واقف نہیں ہوتے ہیں مثلاً یہ شعر ملاحظہ کیجئے ؎

فانوس بن کے جس کی حفاظت ہوا کرے
وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے
اس شعر کو عام طور پر اقبال کی تخلیقی ہنرمندی کا نتیجہ تصور کیا جاتا ہے ، جبکہ یہ شعرا اقبال کا نہیں ہے ۔ اگر مذکورہ شعر اقبال کا ہوتا تو اقبال کے کلیات میں ہونا چاہئے تھا ، مگر اس میں اس شعر کا ذکر نہیں ہے ۔ سب سے بڑی بات تو یہ کہ اقبال نے اپنا پہلا شعری مجموعہ ’’بانگ درا‘‘ جب شائع کیا اور بہت سے اشعار حذف کردیئے تھے ، لیکن حذف کردہ اشعار کو مولوی احمد دین نے اپنی کتاب ’’اقبال‘‘ (جو اقبال کی شاعری پر پہلی تنقیدی کتاب ہے ۔ پہلی بار 1923 میں پاکستان سے چھپی تھی مگر شائع نہ ہوسکی) میں شامل کیا تھا ، اس میں بھی یہ شعر موجود نہیں ہے تو بھلا اس شعر کو اقبال سے کیسے منسوب کیا جاسکتا ہے ؟ ’’برمحل اشعار اور ان کے مآخذ‘‘ کتاب کے مؤلف خلیق الزماں نصرت نے ’’حفیظ جونپوری حیات و شاعری‘‘ صفحہ 28 کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’’یہ شعر شہیرؔ مچھلی شہری کا ہے‘‘ (صفحہ 112) شہیر مچھلی شہری 1856 میں جونپور میں پیدا ہوئے ۔ مچھلی شہر کے محلہ سیّد واڑہ میں ان کے آباء و اجداد نیشاپور سے آکر بس گئے تھے ۔ شہیر ، منیر شکوہ آبادی کے شاگرد تھے ۔ امیر مینائی شہیر کو نامور شعراء میں شمار کرتے تھے ۔ وہ حفیظ جونپوری کے معاصرین میں تھے ۔ 1935 میں ان کا ایک دیوان ’’خیابان ترنم‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا ۔ ان کے شاگرد سروش مچھلی شہری نے اس دیوان کو شائع کیا ۔ 1929 میں شہیر کا انتقال ہوا ۔ طفیل احمد انصاری کے حوالے سے خلیق الزماں نصرت نے لکھا ہے کہ ’’16 فروری 1991 کو شہیر کا مذکورہ شعر ہفت روزہ بلٹز (بمبئی) کے آخری صفحے پر تصویر کے ساتھ شائع ہوا‘‘ ۔ (برمحل اشعار اور ان کے مآخذ ’’رضوی کتاب گھر‘‘ جامع مسجد دہلی ، 2012صفحہ 112)
ایک نہایت مشہور شعر جو اکثر و بیشتر خواندہ اور ناخواندہ افراد ایک دوسرے کو سناتے رہتے ہیں اور خدا کی مشّیت کو ’’مرضیٔ مولی از ہمہ اولیٰ‘‘ کے مصداق قرار دیتے ہیں بلکہ ان کی دلی آواز یہ ہوتی ہے کہ دشمن چاہے جتنی بھی تدبیر اپنالے ، اگر خدا کی مرضی نہیں ہوگی ، تو کچھ بھی نہیں بگڑے گا اور ایسے ہی موقع پر درج ذیل شعر وہ نہایت اعتماد کے ساتھ پڑھتے ہیں ؎
مدّعی لاکھ بُرا چاہے تو کیا ہوتا ہے
وہی ہوتا ہے ، جو منظورِ خدا ہوتا ہے
یہ شعر کس شاعر کا ہے ، عام طور پر اہل علم حضرات بھی اس سے بے خبر ہیں ۔ اترپردیش اردو اکادمی سے آغا محمد باقر کا مرتبہ ’’غزلیات برق‘‘ 1983 میں شائع ہوا ۔ اس کتاب کے صفحہ نمبر 82 پر مذکورہ شعر برق لکھنوی سے منسوب ہے ۔ خلیق الزماں نصرت کی تحقیق بھی یہ بتاتی ہے کہ یہ شعر برق لکھنوی کا ہے ، جس کا ذکر انہوں نے اپنی کتاب ’’برمحل اشعار‘‘ میں صفحہ 57 پر کیا ہے ۔ برق لکھنوی کا نام مرزا محمد رضا خاں تھا ۔ وہ برق تخلص کیا کرتے تھے ۔ ان کے والد کا نام کاظم علی خاں تھا ۔ برق ناسخ کے شاگردوں میں تھے ۔ ان کا ایک دیوان ان کی حیات میں 1853 میں شائع ہوا ۔ 1857 میں کلکتہ میں ان کا انتقال ہوا۔

لکھنؤ کے شعراء میں ثاقب لکھنوی کا نام نہایت اہمیت کاحامل ہے ۔ ان کی شاعری میں زندگی کی وہ تلخ حقیقتیں موجود ہیں ، جن کی وجہ سے ان کے کئی اشعار ضرب المثل بن گئے ۔ میر اور غالب کی پیروی کرتے تھے ۔ ان کا مجموعۂ کلام ’’دیوانِ ثاقب‘‘ کے نام سے شائع ہوچکا ہے ۔ علاوہ ازیں غزل انسائیکلوپیڈیا (مرتبہ ذکی کاکوروی ، مرکز ادب لکھنؤ 1968) میں بھی ان کے کلام کا نمونہ موجود ہے ۔ ’’غزلیات ثاقب‘‘ کے عنوان سے بھی ان کے منتخب کلام شائع ہوچکے ہیں ۔ سید احتشام حسین نے ثاقب لکھنوی کے فن کے بارے میں لکھا ہے :۔
’’مرزا ذکر حسین ثاقب (1860-1946) بھی لکھنؤ کے مشہور شاعر تھے ۔ والد کی ملازمت کے سبب سے الہ آباد ، بھوپال اور آگرہ میں بھی رہے ، مگر زیادہ وقت لکھنؤ میں ہی گزرا ۔ شعر گوئی میں اس طرح محو ہوجاتے تھے کہ ادھر اُدھر کی خبر نہ رہتی تھی ۔ زیادہ تر غزلیں کہتے تھے اور میر و غالب کی پیروی کو ہی اپنے لئے فخر کی بات جانتے تھے ۔ ان کے کلام میں تھوڑا بہت لکھنؤ کا مصنوعی رنگ بھی ملتا ہے ۔ مگر بیشتر جذباتِ قلب کے اظہار سے ان کی شاعری کا اثر بڑھا ہوا ہے‘‘ (اردو ادب کی تنقیدی تاریخ ، سید احتشام حسین ، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی 1997 صفحہ 249)

ثاقب لکھنؤی کا ایک نہایت مشہور شعر جو مضمون نگار ، مقررین اور اہل ذوق حضرات اکثر و بیشتر استعمال میں لاتے ہیں ، لیکن انھیں اس کا علم نہیں کہ یہ شعر ثاقب لکھنوی کا ہے ۔ یہ شعر بھی ان ہی درجنوں اشعار میں سے ایک ہے جو پڑھا اور لکھا تو بہت جاتا ہے ، لیکن شاعر کے نام سے عام طور پر بے خبری پائی جاتی ہے ۔ ثاقب لکھنوی کا مشہور زمانہ شعر ملاحظہ کیجئے اور شاعر کے درد کو محسوس کیجئے ؎
باغباں نے آگ دی جب آشیانے کو مرے
جن پہ تکیہ تھا وہی پتّے ہوا دینے لگے
(بحوالہ اردو ادب کی تنقیدی تاریخ صفحہ 249، سوانحی انسائیکلوپیڈیا جلد اول مرتبہ رضا الرحمن عاکف دہلوی صفحہ 200 ، برمحل اشعار اور ان کے مآخذ صفحہ 117)
ثاقب لکھنوی کے اشعار میں ضرب المثل بننے کی خصوصیت پائی جاتی ہے ۔ شعر گوئی میں محویت اور دنیا سے بے خبری کا ہی یہ عالم تھا کہ ثاقب لکھنوی کے متعدد اشعار ضرب المثل بن گئے جو انسانی درد کی مجسم تصویر بن کر ہمارے سامنے آئے ۔ ثاقب کے یہ دو اشعار بھی قارئین کی نذر ہیں جو ان کی فنکاری اور تجربات زندگی کی بہترین مثال پیش کرتے ہیں ؎
بڑے شوق سے سن رہا تھا زمانہ
ہمیں سوگئے داستاں کہتے کہتے
(جدید غزل گو صفحہ 99)
مٹھیوں میں خاک لے کے دوست آئے وقتِ دفن
زندگی بھر کی محبت کا صلہ دینے لگے
(جدید غزل گو صفحہ 99)

شکیب جلالی نے بھی ثاقب لکھنوی کی طرح نہایت خوبصورت اور اثر آفریں انداز میں اسی مفہوم کو اپنے ایک شعر میں یوں باندھا ہے ؎
اِک سانس کی طناب جو ٹوٹی تو اے شکیب
دوڑے ہیں لوگ جسم کے خیمے کو تھامنے
(کلیات شکیب جلالی ، دہلی 2007 صفحہ 35)
مولانا ظفر علی خان اپنی دھاردار طنزیہ صحافت کی وجہ سے تاریخِ صفحات میں نمایاں مقام رکھتے ہیں ۔ اخبار ’’زمیندار‘‘ کے مدیر کے طور پر ان کی شہرت چہار دانگ عالم میں پھیلی ۔ وہ بنیادی طور پر شاعر تھے ، لیکن ان کی شاعری کو شہرت حاصل نہ ہوسکی بلکہ ’’زمیندار‘‘ کے ایڈیٹر کے طورپر انھیں مقبولیت حاصل ہوئی ۔ ظفر علی خان ایک شعلہ بیان مقرر بھی تھے اور ان کی تحریروں میں بھی یہی صفت پائی جاتی تھی ۔ وہ خلافت اور کانگریس کی تحریکوں کے قائد تھے ۔ ان کی تحریک کا اصل مقصد ظلم و زیادتی کے خلاف آواز بلند کرنا تھا ۔ ان کی زندگی کا معتدبہ حصہ قید و بند میں گزرا ۔ 90 سال کی عمر میں ان کا انتقال 1986 میں ہوا ۔ ظفر علی خان کا ایک نہایت مشہور شعر ہے ، جسے عام طور پر کچھ لوگ اقبال اور بعض اہل علم حالی سے منسوب کرتے ہیں ، لیکن جس شعر کا یہاں ذکر مقصود ہے ، اس کے تخلیق کار مولانا ظفر علی خان ہیں اور وہ شعر ہے ؎

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
(بحوالہ برمحل اشعار اور ان کے مآخذ صفحہ 118)
ظفر علی خان کا ہی ایک اور شعر جو بہت زیادہ نقل کیا جاتا ہے اور خطباء اسے اپنی تقریروں کا حصہ بناتے ہیں وہ یہ ہے ؎
نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
(ایضاً)
میر تقی میر اور امیر مینائی کے نام سے ایک شعر مدتوں سے منسوب کیا جاتا رہا ہے ، لیکن تحقیق سے پتہ چلا کہ وہ شعر میر تقی میر کا نہیں بلکہ نواب محمد یار خاں امیر ٹانڈوی کا ہے ۔ میر سے منسوب کرتے ہوئے اسے غلط طور پر کچھ اس طرح پڑھا جاتا رہا ہے
شکست و فتح نصیبوں سے ہے ولے اے میرؔ
مقابلہ تو دل ناتواں نے خوب کیا
لیکن اصل شعر کی صورت کچھ اس طرح ہے اور یہی زیادہ درست اور مستند مانا گیا ہے
شکست و فتح میاں اتفاق ہے لیکن
مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا
اس شعر کے متعلق ماہنامہ شاعر بمبئی شمارہ اگست 2009 ، صفحہ 33 پر مذکور ہے کہ یہ شعر نواب محمد یار خاں امیر کا ہے ۔ راز یزدانی نے ماہنامہ نیا دور لکھنؤ، جون 1962 کے شمارہ میں ایک مضمون بعنوان ’’نواب محمد یار خاں امیر‘‘ (صفحہ 5 تا 11) شائع کرایا تھا ، جس میں محمد یار خاں امیر کی شخصیت اور شاعری پر بھرپور روشنی ڈالی ہے اپنے مضمون میں مذکورہ شعر کے حوالے سے راز یزدانی نے لکھا ہے :۔

’’ایک شعر اور پیش ہے
شکست و فتح میاں اتفاق ہے لیکن
مقابلہ تو دل ناتواں نے خوب کیا
غلطی سے یہ شعر میرؔ سے منسوب کرکے اس طرح پڑھا جاتا ہے
شکست و فتح نصیبوں سے ہے ولے اے میرؔ
مقابلہ تو دل ناتواں نے خوب کیا
لیکن حقیقت میں یہ شعر نہ میر تقی میر کا ہے نہ امیر مینائی کا (جیسا کہ کچھ اور حضرات کو شبہ ہوا ہے) بلکہ نواب محمد یار خاں امیر کا ہے‘‘ ۔
ایسے سیکڑوں اشعار ہیں جو تحقیق کے متقاضی ہیں تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ ان اشعار کو کن شعراء نے لکھا ہے ، حالانکہ وہ اشعار دوسرے شعراء سے منسوب کردیئے گئے ہیں ۔ اردو کے متعدد گمنام شعراء ایسے ہیں ، جن کے ایک یا دو اشعار اتنے مشہور ہوئے کہ وہ لوگوں کے حافظہ کا حصہ بن گئے ، لیکن لوگ ان اشعار کے اصل سخنور کے نام سے لاعلم ہیں ۔ان گمنام شعراء کے بعض اشعار ضرب المثل بن گئے ہیں یا ان کے شعر کا کوئی ایک مصرع زبان زد خاص و عام ہوچکا ہے ۔ یہاں ایسے ہی چند اشعار اور شاعر کے نام پیش کئے جارہے ہیں ، جو شاعر سے زیادہ شہرت رکھتے ہیں ؎
دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
(پنڈت مہتاب رائے تاباں) بحوالہ شاعر اگست 2009 صفحہ 29
جہاں ہم خشتِ خم رکھ دیں ، بِنائے کعبہ پڑتی ہے
جہاں ساغر پٹخ دیں ، چشمۂ زمزم نکلتا ہے
(ریاض خیرآبادی) بحوالہ سوانحی انسائیکلو پیڈیا صفحہ 312
وحشت میں ہر اک نقشہ الٹا نظر آتا ہے
مجنوں نظر آتی ہے لیلیٰ نظر آتا ہے
(ظریف لکھنوی) بحوالہ اردو ادب کی تنقیدی تاریخ صفحہ 251
چل ساتھ کہ حسرت دلِ مرحوم سے نکلے
عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے
(مرزا محمد علی فدوی) بحوالہ برمحل اشعار اور ان کے مآخذ صفحہ 30
صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے
عمر یوں ہی تمام ہوتی ہے
(احمد حسین امیر اللہ تسلیم) بحوالہ جدید شاعری ،صفحہ 197
ترچھی نظروں سے نہ دیکھو عاشقِ دلگیر کو
کیسے تیر انداز ہو سیدھا تو کرلو تیر کو
(وزیر لکھنوی) بحوالہ اردو ادب کی تنقیدی تاریخ صفحہ 103
گمنام شعراء کے ایسے سیکڑوں اشعار ہیں جو شاعر سے زیادہ مشہور ہیں ، جن پر تفصیل سے لکھنے کی گنجائش بنتی ہے ۔ (جاری ہے)
mdsabirali70@gmail.com

TOPPOPULARRECENT