گلبرگہ میں صفائی کے ناقص انتظامات ، کئی مقامات پر کچرے کے انبار

گلبرگہ /8 مئی ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) گلبرگہ کے بعض بلدی حلقوںکے عوام کے ذہنوں میں آج کل یہ سوچ پیدا ہو رہی ہے کہ جب ایک سال سے مجلس بلدیہ گلبرگہ میں منتخب عوامی نمائندوں کی باڈی تشکیل نہیں دی گئی تھی وہ وقت ہی شہریوں کے لیے شاید اچھا تھا کیوں کہ کم از کم اس وقت محلوں کے نکڑوں اور کچرے خانوں سے روزانہ کی بنیاد پر ہی سہی کچرے کے ڈھیر تو صاف کرائے جاتے تھے ۔لیکن افسوس اب مئیر اور نائب مئیر کے انتخاب کے بعد شہر میں کچرے کی نکاسی کا کوئی عملی انتظام دیکھنے کو نہیں مل رہا ۔مئیر نے عہدہ کا حلف لینے کے فوری بعد بیان دیا تھا کہ وہ شہر کو گندگی سے پاک و صاف شہر بنائیں گی۔ان کا بیان صرف لفاظی کے سوا کچھ بھی نہ تھا خود ان کے گھر کے اطراف کا نظارہ اس قابل نہیں ہے کہ وہاں سے کوئی شائستہ مزاج انسان گہری سانس لیتا گذر سکے۔زیر نظر تصویر گلبرگہ کے دو بلدی حلقوں وارڈ نمبر 15اور 5 میں کچرے کے ڈھیر کا یہ پہاڑ ظاہر کر رہا ہے کہ مئیر گلبرگہ کس قدر فعال اور سرگرم ہیں ۔شہر گلبرگہ ان دنوں کچرے کا ڈھیر بنتا جارہا ہے ۔مسجد کاکڑ خان کے نکڑ پر کچرے کا یہ ڈھیر کارپوریٹر کو آواز دے رہا ہے جو صرف سیاسی قائدین کی نیابت میں ہی وقت گذار رہے ہیں انھیں اپنے علاقے کی صفائی کا بھی دھیان رکھنا چاہیے۔واضح رہے کہ یہ علاقہ درگاہ حضرت خواجہ بندہ نواز کی طرف جاتا ہے اور یہاں ملک بھر سے روزانہ سینکڑوںزائرین آتے ہیں ان کے سامنے شہر کی ایسی تصویر پیش کرنا قابل شرم ہے۔دوسری تصویر وارڈ نمبر 5کی ہے جو تپنا حکیم کے گھر کے قریب کی ہے جہاں سے روزانہ ہزاروں طالبات اور طلبہ کا گذر ہوتا ہے ۔کچرے کے اس بد بودار ڈھیر کی وجہ سے اطراف کے مکینوں کی صحت کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔