گدوال میں ٹی آر ایس ۔کانگریس کارکنوں میںجھڑپ

گدوال /8 ڈسمبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) گدوال میں ہفتہ کو پولیس نے ٹی آر ایس و کانگریس کے دو متصادم گروہ کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج کیا جہاں ڈپٹی چیف منسٹر ڈاکٹر کے راجیا کی زیر قیادت منعقد شدنی محکمہ بہبود و خواتین و اطفال کی ایک عمارت کے افتتاح کے موقع پر شہ نشین پر بیٹھنے کے مسئلہ کو لیکر تنازعہ پیدا ہوا ۔ ڈپٹی چیف منسٹر ڈاکٹر راجیا حالات پر کنٹرول کرنے کی ناکام کوشش کرنے کے بعد تقریب سے خطاب کئے بغیر ہی واپس ہوگئے ۔ تفصیلات کے بموجب ڈپٹی چیف منسٹر ڈاکٹر راجیا گدوال اور ضلع محبوب نگر میں دو بین سرکاری تقاریب میں حصہ لینے کیلئے گدوال پہونچے تھے جہاں وہ 2 لاکھ روپئے کے صرفہ سے تعمیر کردہ ماتا شیو شنکھ شیما بھون کا افتتاح کرنے والے تھے جس کیلئے شہ نشین سجایا گیا تھا ۔ جہاں ٹی آر ایس قائدین و کارکنوں نے اس پورے اسٹیج پر قبضہ کرکے بیٹھ گئے جس پر کانگریسی رکن اسمبلی مسٹر ڈی کے ارونا نے اعتراض کیا اور کہا کہ یہ کوئی پارٹی کا پروگرام نہیں ہے ۔ سرکاری پروگرام میں عوامی منتخبہ نمائندوں کو ہی اسٹیج پر بیٹھنا چاہئے ۔ اس پر ان کے ہاتھوں شکست خوردہ ٹی آر ایس لیڈر مسٹر کرشنا موہن ریڈی نے اعتراض کیا جس کے ساتھ ہی صدر ضلع پریشد مسٹر بنڈاری بھاسکر نے مسز ڈی کے ارونا کے ساتھ غیر مہذہب زبان کا استعمال کیا تو دونوں کانگریس کارکن و ڈی کے ارونا کے حامیوں نے احتجاج کرتے ہوئے ان سے الجھ پڑے جس پر ٹی آر ایس کارکن بھی میدان میں کود پڑے ۔ اس طرح دونوں گروپس کے بحث و تکرار کے ساتھ کرسیوں سے ایک دوسرے پر حملہ کرنا شروع کردیا ۔ جس پر حالات مکدر ہوگئے ۔ پولیس نے حالات پر قابو پانے کیلئے لاٹھی چارج کا سہارا لیا ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے متضادم گروپس کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن انہوں نے ان کی ایک نہ مانی جس پر ڈاکٹر کے راجیا جلسہ سے خطاب کے بغیر ہی مایوسی کے ساتھ واپس ہوگئے ۔ لاٹھی چارج میں دونوں گروپس کے چند ایک قائدین زخمی ہوگئے ۔ فی الوقت ٹاون کے حالات کشیدہ مگر قابو میں ہیں۔ پولیس کو بطور احتیاط پورے ٹاون میں چوکس کردیا گیا اور پولیس پٹرولنگ بھی شروع کردی گئی ہے ۔ کرشنا ریڈی موہن ریڈی سابق وزیر ڈی کے ارونا کے حقیقی بھانجہ ہیں جنہوں نے ٹی آر ایس کے ٹکٹ پر عام انتخابات میں اپنی ممانی کے ساتھ گدوال حلقہ اسمبلی سے ناکام مقابلہ کیا تھا ۔