احمدآباد ۔ 18 اگست (سیاست ڈاٹ کام) گجرات میں آئندہ ماہ لوک سبھا کی واحد نشست اور اسمبلی کی 9 نشستوں پر منعقد شدنی ضمنی انتخابات ریاست کی نئی وزیراعلیٰ آنندی بین پٹیل کی حقیقی قائدانہ صلاحیت اور عوام میں ان کی مقبولیت کے لئے زبردست آزمائش ثابت ہوں گے۔ یاد رہے کہ گجرات کے سابق وزیراعلیٰ نریندر مودی جب ملک کے وزیراعظم بن کر دہلی چلے گئے تو انہوں نے گجرات کے وزیراعلیٰ کی ذمہ داری آنندی بین پٹیل کو سونپ دی تھی اور عہدہ کا جائزہ حاصل کرنے کے بعد ان کی قیادت میں گجرات میں پہلے انتخابات منعقد ہورہے ہیں۔ اسمبلی کی تمام 9 نشستوں پر جہاں 13 ستمبر کو انتخابات منعقد شدنی ہیں، ان پر بی جے پی کا قبضہ تھا اور تمام ایم ایل ایز کے لوک سبھا کیلئے منتخب ہونے کے بعد انہوں نے اپنی اسمبلی نشستوں سے استعفیٰ دیدیا تھا۔ جن حلقوں میں انتخابات منعقد شدنی ہیں ان میں آنند، لمبکھیڈہا (داہود)، دیسا (بانس کانٹھا)، ماتر (کھیڈا)، منی نگر (احمدآباد)، تلاجا (بھاؤنگر) ٹنمارا (راجکوٹ)، کھمبالیا (جام نگر) اور منگرولی (جوناگڑھ) شامل ہیں۔ نریندر مودی کے وارانسی نشست پر برقرار رہنے کے اعلان کے بعد وڈودرہ لوک سبھا نشست مخلوعہ ہوگئی تھی۔ دوسری طرف اپوزیشن کانگریس کو پوری توقع ہیکہ وہ گجرات میں زبردست واپسی کرے گی کیونکہ ریاست کے سیاسی منظرنامہ سے اب مودی غائب ہوچکے ہیں۔ کانگریس نے گذشتہ دو ماہ کے دوران افراط زر اور بدعنوانیوں کے معاملہ کو انتہائی جارحانہ انداز میں اٹھایا ہے اور اس وجہ سے یہ توقع بھی کی جارہی ہیکہ حکمراں جماعت بی جے پی کو کانگریس ضرور شکست دے گی۔ دوسری طرف گجرات میں نئی وزیراعلیٰ کی مقبولیت کا پیمانہ بھی عوام کے فیصلے سے معلوم ہوجائے گا۔ یہ بات تو طئے ہیکہ جو مقبولیت مودی کو حاصل تھی وہ آنندی بین پٹیل کو حاصل نہیں۔ یاد رہے کہ اسمبلی نشستوں کے لئے انتخابات وزیراعلیٰ کی قیادت میں منعقد کئے جاتے ہیں۔ کانگریس ترجمان منیش دوشی نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کے نتائج سے ہی عوام کا رجحان معلوم ہوجاتا ہیکہ عوام وزیراعلیٰ کی کارکردگی سے مطمئن ہیں یا نہیں؟ فی الحال تو ضمنی انتخابات کی تیاریاں زوروشور سے جاری ہیں۔