گاندھی جی کا قتل ہندوستان کی تاریخ پر سیاہ دھبہ

چینائی۔/30جنوری، ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکز میں بی جے پی کی زیر قیادت حکومت کی جانب سے دستور کے بنیادی اصولوں پر بحث کیلئے آمادگی پر تنقید کرتے ہوئے سی پی ایم نے آج کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی ایسے وقت عمداً خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں جب دستور ی اقدارکو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ پارٹی کی پولیٹ بیورو ممبر اور رکن راجیہ سبھا شریمتی برندہ کرات نے کہا کہ ہندوستان میں سیکولرازم کیلئے جدوجہد کا مطلب ملک کی بقاء اور اس کی ترقی کیلئے جدوجہد کے مترادف ہے۔ این ڈی اے حکومت کے جار کردہ ایک اشتہار میں دستور کے دیباچہ سے سوشلسٹ اور سیکولرازم کے الفاظ غائب کردینے پر رونما تنازعہ کا بالواسطہ حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ مرکز نے اس مسئلہ پر بحث چھیڑ دی ہے۔

یہ امر انتہائی تشویشناک ہے کیونکہ مرکز میں ایک ایسی حکومت اقتدار میں ہے جس نے لوک سبھا انتخابات میں صرف 31 فیصد ووٹ حاصل کئے ہیں اور وہ دستور کے اصولوں پر بحث کی خواہشمند ہے۔ بعض مرکزی وزراء نے تو مباحث کا آغاز بھی کردیا ہے ۔ واضح رہے کہ شیوسینا نے دستور سے لفظ سیکولر اور سوشلسٹ حذف کردینے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ مرکزی وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی روی شنکر پرساد نے کہا کہ اس مسئلہ پر بحث ہونی چاہیئے۔ شریمتی برندہ کرات یہاںمہاتما گاندھی کی برسی کے موقع پر تامل منیلا کانگریس ( ایم ) کے زیر اہتمام ایک کانفرنس بعنوان’’ سیکولر ہندوستان کو درپیش چیلنجس اور خطرات ‘‘ سے مخاطب تھیں،انہوں نے گاندھی جی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کی ستائش اور بعض ہندو تنظیموں کی جانب سے منادر بنانے کے منصوبوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ گاندھی جی قتل ہندوستان کی تاریخ پر ایک سیاہ دھبہ ہے ۔ ایک طرف تمام ہندوستانی شہری گاندھی جی کو شہید قرار دیتے ہیں تو دوسری طرف بعض طاقتیں ان کے قاتل کی ستائش کررہی ہیں، عموماً ایسے عناصر کو نظر انداز کیا جاتا ہے لیکن اب خاموشی اختیار کرنا ممکن نہیں ہے کیونکہ وزیر اعظم نریندر مودی ہر ایک مسئلہ پر لب کشائی کرتے ہیں لیکن دستوری اقدار کے خلاف حملہ پر چشم پوشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔سی پی ایم لیڈر نے کہا کہ ہندوتوا کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا جارہا ہے اور اس کا کروڑہا ہندوستانیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ امریکی صدربارک اوباما کے حالیہ ایک خطاب کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہندوتوا طاقتوں سے درپیش خطرات کے باعث امریکی صدر کو اس طرح نصیحت کرنی پڑی۔

Leave a Comment