کے سی آر کے ترقیاتی کاموں سے اپوزیشن بوکھلاہٹ کا شکار

محبوب نگر 6 فروری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) تلنگانہ ریاست میں کے سی آر حکومت کے ترقیاتی کاموں کو دیکھ کر اپوزیشن بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ عوام کو تمام شعبوں میں بہتر خدمات کی فراہمی کیلئے حکومت نے سرکاری دفاتر ایک ہی مقام پر تعمیر کرنے کا منصوبہ چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے تیار کیا ہے۔ اس بات کو لے کر تنقیدیں کرنا نامناسب ہے۔ ریاستی وزیر بڑی آبپاشی ہریش راؤ نے چہارشنبہ کے دن ضلع محبوب نگر کے آبپاشی پراجکٹس کا طوفانی دورہ کرتے ہوئے تعمیراتی کاموں کا جائزہ لیا۔ بعدازاں گدوال میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ وائی ایس آر حکومت نے شہر حیدرآباد میں سرکاری اراضیات کو فروخت کرنے کے لئے ٹنڈرس طلب کئے تھے اور لینکو راج گوپال کو انتہائی قیمتی اوقافی سینکڑوں ایکر اراضی فروخت کی۔ یہی اپوزیشن جماعت جو اس وقت برسر اقتدار تھی، خاموش تماشائی تھی۔ انھوں نے مزید کہاکہ چندرابابو نائیڈو کے دور اقتدار میں آلوین، نظام شوگر فیاکٹری کی اراضی کو فروخت کیا گیا۔ اُنھوں نے سخت لہجہ میں کہاکہ سیما آندھرا کو فائدہ پہونچانے کے لئے ہی یہ اقدامات کئے گئے۔ اس وقت تلنگانہ کے قائدین خاموش کیوں تھے؟ انھوں نے اپوزیشن سے استفسار کیاکہ آپ کے دور اقتدار میں کئی ایک اسکامس ہوئے اور آپ کو سی بی آئی کے کٹہرے میں بھی کھڑا ہونا پڑا۔ 7 ماہ کے اقتدار میں کے سی آر نے جو اقدامات کئے ہیں اس سے آپ ہوش کھو بیٹھے ہیں۔ اُنھوں نے کانگریس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ فیس ری ایمبرسمنٹ کے 16 کروڑ روپئے کانگریس باقی رکھتی ہے اور آج اسی کے قائدین اس مسئلہ پر ڈرامائی کھیل کھیلتے ہوئے احتجاج کررہے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ کانگریس کے دور اقتدار میں پالمور لفٹ اریگیشن کیلئے فنڈس کی منظوری عمل میں نہیں آئی۔ لیکن ٹی آر ایس حکومت نے اس پراجکٹ کے لئے 16 ہزار کروڑ روپئے جاری کئے اور بہت جلد چیف منسٹر کے ہاتھوں سنگ بنیاد رکھا جائے گا۔ اُنھوں نے کسانوں کو تیقن دیا کہ خریف سیزن میں کاشت کے لئے پانی فراہم کرنے کے تمام تر انتظامات کئے گئے ہیں۔ اُنھوں نے انجینئرنگ اسٹاف کو متنبہ کیا کہ وہ تعمیراتی کاموں میں معیار برقرار رکھیں اور کاموں میں تیزی لائیں۔ وزیر موصوف نے نیٹم پاڈو پراجکٹ کا تفصیلی معائنہ کیا۔ ان کے ہمراہ وزیر بڑی صنعت جوپلی کرشنا راؤ، نائب چیرمین ریاستی پلاننگ کمیشن نرنجن ریڈی، پارلیمنٹری سکریٹری سرینواس گوڑ و دیگر ارکان اسمبلی موجود تھے۔