مٹ پلی ۔ 21 اپریل (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) وزیر انڈومنٹ جناب اندرا کرن ریڈی ابراہیم پٹنم ۔ ملاپور منڈلس میں گوداوری پشکارالو گھاٹوں کی ان کے ہاتھوں افتتاحی تعمیری کام کے بعد مقامی ایم ایل اے جناب کلوا کنٹلہ ودیا ساگر راؤ کے مکان پر توقف کے دوران پریس میٹ میں کہا کہ چیف منسٹر جناب کے سی آر کی قیادت میں ریاست تلنگانہ ترقی کی سمت گامزن ہے۔ ریاستی بجٹ ایک لاکھ 15 کروڑ روپیوں تک مختص کرتے ہوئے ترقیاتی اُمور کے انجام کیلئے آغاز کیا گیا ہے۔ ہندوستان میں ریاستوں کی ترقی کے معاملے میں دو ریاستیں گجرات اور تلنگانہ اولین مقامی رکھتے ہیں۔ حصول تلنگانہ کے بعد 15 ماہ کے عرصہ میں ریاست تلنگانہ کے ترقیاتی اُمور میں کافی سدھار آیا ہے۔ ریاست میں برقی پیداوار کی بہتر مانیٹرنگ کی وجہ سے کسانوں کو زراعت کیلئے اور دیگر محکمہ جات کیلئے برقی سربراہ ہورہی ہے جس پر مخالف سیاسی پارٹیاں بھی کوئی لب کشائی نہیں کررہی ہیں۔ کسانوں کو فصلی پیداوار کیلئے 9 گھنٹے مسلسل برقی سربراہ کرنا ہی حکومت تلنگانہ کا مقصد ہے۔ اس بارے میں حکومت عملی اقدامات کررہی ہے۔ عادل آباد ضلع کے پگڈاپلی میں 1200 میگاواٹ اور بھوپالہ پلی میں 6,000 میگاواٹ برقی پیداوار حاصل کرنے کا منصوبہ بنارہی ہے ۔ مستقبل میں علاقہ تلنگانہ کیلئے برقی مسائل دور ہوں گے۔ مشن کاکتیہ کے ذریعہ مقامی تالابوں کی مرمت کا کام زوروں پر ہورہا ہے، جس کیلئے مقامی احباب کا کافی تعاون ہورہا ہے۔ حکومت لا اینڈ آرڈر کو بہتر بنارہی ہے۔ محکمہ پولیس کیلئے نئے بولورو کارس دیئے گئے ہیں۔ حیدرآباد کے بعد ہر ضلع کے صدر مقام پر پولیس کی سی ٹیمیں قائم کی جائیں گی تاکہ پولیس کے موثر انتظامات ہوسکے۔ حکومت تمام طبقات بشمول ایس سی ایس ٹی بی سی مائناریٹی کیلئے کلیانا لکشمی اور شادی مبارک اسکیم کے ذریعہ مستحقین کی مدد کررہی ہے۔ انہوں نے محکمہ امکنہ مکانات کی تعمیری کام کے تعلق سے کہا کہ حکومت کی جانب سے تحقیقات کروائے جانے پر اب تک 4 لاکھ 61 ہزار مکانات کی تعمیر غیرقانونی ہے۔ احباب اس کے لئے مستحق نہیں تھے۔ حکومت پوری تحقیق کے بعد دوبارہ مکانات فراہم کرے گی۔ حکومت واٹر گرڈ اسکیم کو روبہ عمل لاکر 4 سال کے اندر ہر گھر پینے کا صاف پانی فراہم کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پشکارالو کا کام تیزی سے جاری ہے۔ پشکارالو کاموں کیلئے متعینہ بجٹ مختص کردیا گیا ہے۔ پشکارالو کا کام 10 جون تک مکمل ہوگا۔ ریاستی چیف منسٹر کی خواہش ہے کہ پشکارالو تقریب کمبھ میلہ طرز پر ہونا چاہئے یعنی کمبھ میلہ کی طرح شان و شوکت سے ہونا چاہئے۔ اس کے پیش نظر مرکزی حکومت بھی 50 کروڑ روپیوں تک تعاون کرنے کا پیشکش کیا ہے۔ پشکارالو کام ہر ضلع کے IAS سینئر عہدیدار کی نگرانی میں انجام پائے گا۔ مئی کے پہلے ہفتہ پشکارالو کاموں کا آغاز ہوگا۔ اس موقع پر مقامی ایم ایل اے کلواکنٹلہ ودیا ساگر راؤ میونسپل مٹ پلی چیرمین محترمہ مری اوما رانی اور دیگر سیاسی قائدین واحباب موجود تھے۔