تھرواننتھاپورم ۔ 15 مئی (سیاست ڈاٹ کام) اب جبکہ ووٹوں کی گنتی کیلئے بہت ہی کم وقت باقی ہے (جس وقت آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے ووٹوں کی گنتی کا آغاز ہوچکا ہوگا) وہیں ریاست کیرالا میں لوک سبھا کی 20 نشستوں کے نتائج حکمراں کانگریس کی قیادت والی یو ڈی ایف اور اپوزیشن ایل ڈی ایف کے موقف پر اثرانداز ہوسکتے ہیں حالانکہ ریاستی اسمبلی انتخابات کے انعقاد کیلئے مزید دو سال باقی ہیں۔ دوسری طرف وزیراعلیٰ کیرالا اومین چنڈی کیلئے نتائج بہت ہی زیادہ اہمیت کے حامل ہوں گے۔ اومین چنڈی کی ریاست میں کارکردگی اور دیگر قومی موضوعات سب کی توجہ کا مرکز ہوں گے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق اگر یو ڈی ایف کی نشستیں متوقع 16 نشستوں سے کم ہوئیں جیسا کہ 2009ء کے انتخابات میں حاصل ہوئی تھیں
، تو اومین چنڈی پر کانگریس اور دیگر حلیف جماعتوں کا دباؤ بڑھ جائے گا۔ اومین چنڈی نے انتخابی مہمات کے دوران کہا تھا کہ عام انتخابات ریاستی حکومت کی کارکردگی کے لئے بھی ایک ریفرنڈم ثابت ہوں گے۔ یاد رہے کہ 2009ء کے انتخابات میں سی پی آئی (ایم) کو چار نشستوں پر کامیابی ملی تھی اور اس وقت کامیابی حاصل کرنے والے تمام ایم پیز دوبارہ انتخابی میدان میں ہیں۔ اگر سی پی آئی (ایم) کو زائد نشستیں حاصل ہوئیں تو اس کا سہرہ ریاستی سکریٹری پیناروی وٹاین کے سر بندھے گا اور اس طرح وہ وزیراعلیٰ کے عہدہ کیلئے آئندہ اسمبلی انتخابات کے بعد بہتر امیدوار ہوسکتے ہیں۔