گاندھی نگر 22 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) اپوزیشن کانگریس نے آج بی جے پی کا مضحکہ اُڑاتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں سابرمتی ریور فرنٹ کا دورہ کرنے والے ایک پاکستانی وفد کا پروگرام دراصل وزیر اعظم نریندر مودی کے ایک پروگرام کا حصہ ہے، کانگریس لیڈر شنکر سنگھ واگھیلا نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ زعفرانی پارٹی نے پاکستان کے خلاف اپنے موقف کو تبدیل کرلیا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ یو پی اے کے دور حکومت میں بی جے پی اس پر ہمیشہ یہ تنقید کیا کرتی تھی کہ 26/11 کے ملزم اجمل قصاب کو بریانی پیش کی جارہی ہے ۔ جب پاکستانی افواج نے دوہندوستانی فوجیوں کے سر قلم کردیئے تھے اس وقت بی جے پی نے اعلان کیا تھا کہ وہ دس پاکستانی فوجیوں کے سر قلم کردے گی۔
حیرت انگیزبات یہ ہے کہ اب بی جے پی مرکز میں برسر اقتدار ہے اور مزیدحیرت انگیز بات یہ ہے کہ پارٹی کے اقتدار پر آنے کے بعد ہی پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے جس سے بی جے پی کے دوغلے پن کا اظہار ہوتا ہے ۔ شنکر سنگھ واگھیلا نے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی قیادت والی حکومت کو ڈھکے چھپے انداز میں ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ جب بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے برسر اقتدار تھی اس وقت پاکستان کے سابق وزیر اعظم کو ہندوستان کے دورہ کیلئے مدعو کیا گیا تھا جس کا نتیجہ بعدازاں کارگل جنگ کی صورت میں سامنے آیا ۔ انہوں نے ریو ر فرنٹ پراجکٹ کیلئے بی جے پی کی ریاستی حکومت کے سر سہرہ باندھے جانے کی بھی مذمت کی اور واضح کیا کہ جب ریور فرنٹ کا فیصلہ اس وقت کیا گیا تھا جب احمد آباد میونسپل کارپوریشن میںکانگریس برسر اقتدار تھی۔ اس پراجکٹ کو بی جے پی نے صرف آگے بڑھایا ہے جبکہ فیصلہ کانگریس کے دور میں کیا جاچکا ہے ۔ شنکر سنگھ واگھیلا نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی نے اس کے علاوہ کانگریس کے دیگر دو پروگرامس کا سہرا بھی اپنے سر باندھ لیا ہے ۔