کیا بی جے پی نیشنلسٹ کرپٹ پارٹی یا ہفتہ وصول پارٹی سے اتحاد کریگی

مہاراشٹرا میں بی جے پی حکومت کی تشکیل کی تیاریوں پر کانگریس کا طنز ۔ انتخابی مہم کے دوران وزیر اعظم مودی کے دئے گئے ناموں کا حوالہ
نئی دہلی 20 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) ایسے وقت میں جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی مہاراشٹرا میں حکومت سازی کے عمل میں مصروف ہے کانگریس نے آج اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور سوال کیا کہ آیا بی جے پی نیشنلسٹ کرپٹ پارٹی ( این سی پی ) سے اتحاد کریگی ؟ ۔ واضح رہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے مہاراشٹرا میں انتخابی مہم کے دوران این سی پی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور کہا تھا کہ این سی پی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی نہیں بلکہ نیشنلسٹ کرپٹ پارٹی ہے ۔ کانگریس ترجمان رندیپ سرجیوالا نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم انتظار کریں گے اور دیکھیں گے کہ آیا بی جے پی نیشنلسٹ کرپٹ پارٹی سے اتحاد کریگی یا ایسی پارٹی سے اتحاد کریگی جو ڈرا دھمکا کر پیسہ ( ہفتہ ) وصول کرتی ہے ۔ انتخابی مہم کے دوران نریندر مودی نے این سی پی کو نیشنلسٹ کرپٹ پارٹی قرار دیا تھا ۔ ایسی پارٹی جو ہفتہ وصول کرتی ہے کا ریمارک کرتے ہوئے مسٹر سرجیوالا نے ایسا لگتا ہے کہ شیوسینا کا حوالہ دیا ہے جس کے ساتھ بی جے پی نے پچیس سال سے جاری اتحاد کو انتخابات سے قبل ختم کرلیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ امید ہے کہ بی جے پی ایک صاف ستھری حکومت تشکیل دینے میں کامیاب ہوگی اور اس حکومت میں ایسے عناصر شامل نہیں ہونگے جو ہفتہ وصول کرتے ہیں ( شیوسینا ) کا کرپشن میں ملوث ہیں ( این سی پی ) ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ بھی امید ہے کہ کوئی بھی قومی یا ریاستی پارٹی دوسری جماعتوں میں انحراف کی حوصلہ افزائی کی کوشش بھی نہیں کریگی ۔ اس نشاندہی پر کہ 2009 میں ہریانہ میں حکومت تشکیل دینے کیلئے کانگریس نے بھی دوسری جماعتوں میں انحراف کی حوصلہ افزائی کی تھی مسٹر سرجیوالا نے کہا کہ اس وقت ہریانہ جن ہت کانگریس کے پانچ ارکان اسمبلی کی کانگریس میں شمولیت کا جواز پیش کیا گیا تھا اور اسے قبول بھی کیا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ تاہم اگر مہاراشٹرا میں ارکان اسمبلی کی خرید و فروخت کے ذریعہ حکومت تشکیل دینے کی کوشش کی گئی تو یہ کوئی مثال نہیں ہوگی کیونکہ وہاں عوام نے کسی بھی جماعت کو واحد اقتدار نہیں دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ فیصلہ کرنا نریندر مودی یا بی جے پی صدر امیت شاہ پر چھوڑتے ہیں کہ وہ ریاست میں حکومت تشکیل دینے فطری کرپٹ پارٹی ( این سی پی ) یا ہفتہ وصول پارٹی ( شیوسینا ) میں کس کا ساتھ لینا پسند کرتے ہیں۔ ہریانہ میں حکومت سازی کے تعلق سے استفسار پر انہوں نے کہا کہ ہریانہ میں پوری احتیاط اور تدبر کے ساتھ حکمرانی کی ضرورت ہے اور وہاں بی جے پی کو وہ تمام وعدے پورے کرنے ہونگے جو اس نے انتخابی مہم کے دوران رائے دہندوں سے کئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی وہاں وظیفہ پیرانہ سالی کو 1000 روپئے سے بڑھا کر 2000 روپئے کرتی ہے اور بیروزگاری الاؤنس 15000 روپئے جاری کرتے ہے تو ہمیں بہت خوشی ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ ریاست میں تشکیل پانے والی حکومت کو ان اسکیمات پر عمل آوری کیلئے وزیر اعظم نریندر مودی سے کافی رقم حاصل ہوگی اور وزیر فینانس ارون جیٹلی بھی اس میں تعاون کرینگے ۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک کانگریس کا سوال ہے اسے یقینی طور پر اپوزیشن میں بیٹھنے کا عندیہ ملا ہے اور پارٹی اسی فیصلے کو قبول کرتے ہوئے اپوزیشن کا رول ادا کرنے کی ہر ممکنہ کوشش کریگی ۔