نئی دہلی 23 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ یسین ملک نے آج وزیر اعظم نریندر مودی کو مسئلہ کشمیر پر ان کے سخت گیر موقف کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا اور ہندوستان و پاکستان کے مابین معتمدین خارجہ سطح کی بات چیت کی تنسیخ کیلئے علیحدگی پسند ذمہ دار ہیں۔ یسین ملک نے ایک ٹی وی شو میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ کشمیری قائدین کی پاکستانی حکام سے ملاقاتوں کی 24 سال سے مثالیں موجود ہیں ۔ جب کبھی ان کے وزرائے اعظم یا معتمد خارجہ ہندوستان کا دورہ کرتے ہیں ہم ان سے ملاقات کرتے ہیں۔ یہ کہنا غلط ہے کہ ہم نے ہند پاک بات چیت کے عمل کو متاثر کردیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس کے برخلاف ہم قیام امن کی کوششوں کو مستحکم کر رہے ہیں تاکہ تمام فریقین اپنے خیالات کا اظہار کریں۔ ہم کوئی تیسرے فریق نہیں ہیں۔ جب کشمیریوں کے مستقبل کے تعلق سے بات چیت ہو رہی ہے تو انہیں بھی اس میں شامل کرنا چاہئے ۔ یسین ملک نے کہا کہ نریندر مودی کشمیری قائدین کو کوئی سیاسی یا سفارتی موقع دینا نہیں چاہتے کیونکہ انہوں نے مسئلہ کشمیر کے تعلق سے سخت گیر موقف اختیار کیا ہے ۔ کشمیر میں ہم تیار ہیں اور ہم اپنی تحریک کو مستحکم کرینگے ۔ یسین ملک نے حریت کانفرنس کے قائدین سید علی شاہ گیلانی ‘ شبیر شاہ اور میر واعظ عمر فاروق کے ساتھ پاکستانی ہائی کمشنر سے دہلی میں جاریہ ہفتے ملاقات کی تھی حالانکہ ہندوستان نے اس پر اعتراض ظاہر کیا تھا ۔ اس ملاقات کو بنیاد بناتے ہوئے ہندوستان نے پاکستان کے ساتھ 25 اگسٹ کی مجوزہ معتمدین خارجہ ملاقات کو منسوخ کردیا ہے ۔