کشمیر مودی میں ایک واجپائی دیکھنا چاہارہا ہے۔ محبوبہ

نئی دہلی۔ سابق چیف منسٹر جموں او رکشمیر محبوبہ مفتی نے’انسانیت‘ کشمیریت اور جمہوریت ‘ کے فارمولے کا احیاء عمل میں لانے کا مطالبہ کیاجس کی شروعات 2003میں انجہانی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے کی تاکہ کشمیرمیں ہیجان انگیز کیفیت کو دور کیاجاسکے اور محبوبہ یہ بھی کہاکہ کشمیر کی عوام ایک’’ واجپائی نریندر مودی کے اندر ‘’ دیکھنا چاہا رہی ہے۔

انہوں نے پاکستان کے نئے وزیراعظم کی جانب سے اسلام آباد سے بات چیت کی شروعات کے متعلق جو جذبات دیکھائے گئی ہیں اس کی حمایت کابھی اظہار کیاہے۔ ریاست میں بی جے پی اور پی ڈی پی اتحاد ختم ہونے کے بعد کسی انگریزی ٹیلی ویثرن نیوزچیانل کو دئے گئے اپنے پہلے انٹریو میں محبوبہ مفتی نے انڈیا ٹوڈے ٹی وی کو بتایا کہ صرف سیاسی عمل جس کی شروعات واجپائی نے کی تھی ہی ریاست میں جاری خون خرابہ کو ختم کرسکتا ہے۔

پی ڈی پی لیڈرنے کہاکہ ’’ ایک سیاسی طریقہ واجپائی نے شروع کیاتھا۔ہم ان کے نقش قدم پر چل رہے ہیں ہمیں کوئی نئی پہیوں کی ضرورت نہیں ہے۔ کشمیریوں کے ساتھ بات چیت کا عمل اور پاکستان سے مصالحت پسندی جس کو یوپی اے اول اور یوپی اے دو م کے بشمول این ڈی اے حکومت نے بھی آگے نہیں بڑھایا کی شروعات کرنی چاہئے۔

یہاں پر ناپسندیدگی دیکھائی دے رہی ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ دہشت گردوں نے اس کا فائدہ اٹھایااور تشدد میں اضافہ ہوگیا‘‘۔محبوبہ کے والد مرحوم جموں کشمیر کے چیف منسٹر مفتی محمد سعید نے کہاکہ تھا کی بی جے پی اور پی ڈی پی کا اتحاد ایک تاریخ بنائے گا ۔

کیاان خواب پورا ہوا؟۔ مفتی نے کہاکہ ’’ لوگوں کو ناامیدی ملی کیونکہ وہ مودی میں ایک واجپائی دیکھنا چاہا رہے تھے‘ وہ کبھی نہیں ہوا ۔ انہیں ہم سے بھی توقع تھی‘‘۔مگر مودی نے 72یوم آزادی کے موقع پر اپنی تقریر میںیہ کہاکہ جموں کشمیر میں سب کو ساتھ لے کر حکومت آگے بڑھے گی‘ گولی سے نہیں گالی سے نہیں۔

کیا وہ واجپائی کی زبان نہیں بول رہے تھے؟۔ جس پر محبوبہ مذاق اڑاتے ہوئے کہاکہ ’’ وہ کسی کی زبان کے متعلق بات نہیں تھی‘ وہ بات سے بھا گ رہے تھے‘‘۔

محبوبہ نے مزید کہاکہ ’’ پہلی مرتبہ واجپائی نے لال قلعہ کی فصیل سے کہاتھا کہ 2002میں جموں اور کشمیر کے اندر آزاد اور شفاف انتخابات کرائے جائیں گے۔

رائے دہندوں کی تعداد میں اضافہ ہوا اور پی ڈی پی ‘ کانگریس کی حکومت کشمیری عوام کے آنکھوں میں جائزہ ثابت ہوئی۔ کوئی شرط نافذ کئے بغیر انہوں نے حریت سے بات چیت کی شروعات کی تھی۔

پھر واجپائی بس کے ذریعہ لاہور گئے اور مشرف نے ان سے جنگ بندی کا وعدہ کیااو راٹھ سالوں تک جنگ بندی جاری رہی ۔ سرحدوں پر ملٹر ی بوتھ میں بھی کمی ائی اور گھس پیٹ میں بڑے پیمانے پر کمی ائی‘‘

انتخاب سے قبل عمران خان کے اعلان پر محبوبہ کو کس حد تک بھروسہ ہے؟ انہوں نے زوردیاکیاکہ’ مجھے یہ سن کر تعجب ہوا کہ عمران خان کو الیکشن جیتانے میں فوج مدد کررہی ہے۔ہم کیوں ایک جمہوری طرز پر الیکشن جتنے والے فرد کو غیراہم بنانے کاکام کریں؟ ہمیں ان کا احترام کرنا چاہئے۔

شر پسند عناصر کو پاکستان کے الیکشن میں مسترد کردیا گیا ہے۔ اگر ہم ایک ملٹری ڈکٹیٹر سے بات کرکے کچھ کرسکتے ہیں تو ‘ پھر کیوں نہ ہم پاکستان سے بات چیت کی شروعات کریں‘‘۔ محبوبہ نے بحران کے حل کو جنگ ’ سرجیکل اسٹرائیک جیسے موقع کو غیر کارگرد بھی قراردیا۔

TOPPOPULARRECENT