کسانوں سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کی جائے سابق ایم پی پونم پربھاکر کا مطالبہ

کریم نگر۔/7جون، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) 2014کے عام چناؤ سے قبل ٹی آر ایس پارٹی نے اپنے انتخابی منشور میں صفحہ نمبر 9میں زرعی شعبہ سے متعلقہ دیئے گئے تیقنات اور وعدہ میں سبھی کسانوں کو ایک لاکھ روپئے قرض کی معافی کا اعلان کیا تھا، عوام نے اس پر یقین کرکے انہیں ووٹ دیا اور اقتدار حوالے کیا ہے۔ چنانچہ منشور میں کئے گئے وعدہ کو بہر صورت بغیر کسی شرط کے پورا کیا جانا چاہیئے۔ غیر مشروط طریقہ کار پر دوبارہ زرعی اغراض کے لئے قرض بھی دیئے جانے کی کسانوں نے امید کی ہے اور اسی آس میں بیٹھے ہیں۔ پونم پربھاکر نے کہا کہ اس لئے ٹی آر ایس حکومت کسانوں کو مایوس نہ کرے ۔ سابق ایم پی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے شرائط کے مطابق 30فیصد کسانوں کو بھی فائدہ حاصل نہیں ہوگا ہر کسان کے قرض کی غیرمشروط طور پر معافی سے کسانوں کے خاندانوں کو خوشی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس نے اپنے انتخابی منشور میں پہلی ترجیح سبھی کسانوں کو ایک لاکھ روپئے قرض معافی کا جو ذکر کیا ہے اس کے مطابق اقتدار پر فائز ہونے کے بعد منشور کے مطابق عمل آوری کے پہلے اعلان نے ہی کسانوں کو اُلجھن میں ڈال دیا ہے۔ زرعی شعبہ سے وابستہ ہر کسان کو ہر طرح سے فائدہ پہنچے یعنی زرعی قرض طویل مدتی ہو یا گولڈ لون یا فصل پر لئے گئے زرعی قرض معاف کرتے ہوئے ریاست کے کسانوں کا بھروسہ حاصل کرنا چاہیئے۔ پونم پربھاکر نے کہا کہ اس طرح کے مطالبات کو سیاسی پارٹیوں کا مخالفانہ رویہ نہ سمجھا جائے۔انہوں نے کہا کہ اس خریف سیزن سے قبل قرض معاف کرکے دوبارہ کسانوں کو زرعی کھاد وغیرہ سبسیڈی قیمتوں پر فراہم کرنے کے فوری اقدامات کئے جانے چاہیئے۔