کرکٹ ورلڈ کپ میں ہندوستانی ٹیم وقت پر فارم میں آئیگی : انجم چوپڑہ

نئی دہلی 8 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) آسٹریلیا میں ٹسٹ اور ونڈے سہ رخی سیریز میں ہندوستانی ٹیم کے ناقص مظاہرہ سے قطع نظر ہندوستانی وومنس کرکٹ ٹیم کی سابق کپتان انجم چوپڑہ کا یہ ماننا ہے کہ ورلڈ کپ کی اہمیت کو اور اس کے چیلنج کو سمجھتے ہوئے ہندوستانی ٹیم صحیح وقت پر فارم میں آجائیگی ۔ ہندوستانی کرکٹ ٹیم کو آسٹریلیا کے خلاف چار ٹسٹ میچس کی سیریز میں 0 – 2 سے شکست ہوئی اور ونڈے سہ رخی سیریز میں وہ ایک بھی میچ میں کامیابی حاصل نہیں کرسکی تھی ۔ تاہم انجم چوپڑہ کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ کے دوران ہندوستانی کرکٹرس بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کرینگے ۔ انہوں نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ ورلڈ کپ ایک بڑا ٹورنمنٹ ہوتا ہے اور صورتحال کے تقاضوں کو دیکھتے ہوئے کرکٹرس چیلنجس سے نمٹنے بروقت فارم میں آجائیں گے اور صحیح وقت پر اچھا کھیلیں گے ۔ انجم چوپڑہ نے اس خیال کا بھی اظہار کیا کہ حالیہ وقتوں میں ہندوستانی ٹیم کی نہ صرف بولنگ ناقص رہی بلکہ بحیثیت مجموعی ساری ٹیم نے اپنی صلاحیتوں کے مطابق مظاہرہ نہیں کیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ناقص بولنگ کے تعلق سے بہت کچھ کہا گیا ہے لیکن وہ مانتی ہیں کہ بحیثیت مجموعی ٹیم نے اچھا کھیل پیش نہیں کیا تھا ۔ کچھ کھلاڑی جہاں فارم میں نہیں تھے وہیں دوسرے کھلاڑی زخمی بھی رہے ہیں۔ ایسے میں آپ خاص طور پر بلے باموں کو ذمہ دار قرار نہیں دے سکتے ۔ ہمارے بولرس نے بھی توقعات کے مطابق مظاہرہ نہیں کیا تھا ۔ انجم چوپڑہ نے 1995 میں اپنے کیرئیر کا آغاز کرنے کے بعد 12 ٹسٹ اور 127 ونڈے میچس میں ہندوستان کی نمائندگی کی ہے ۔ انجم کا یہ احساس ہے کہ آسٹریلیا کا طویل دورہ جو ہوا ہے اس کا فائدہ ہندوستان کو ورلڈ کپ میں ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ ٹسٹ میچس اور سہ رخی سیریز کے نتائج کا جائزہ لیں تو آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ کھلاڑی ورلڈ کپ کیلئے تیار نہیں ہیں

لیکن ان کا ماننا ہے کہ آسٹریلیا میں یہ کھلاڑی طویل وقت سے ہیں اور اس کے نتیجہ میں حالات ان کے حق میں بن سکتے ہیں۔ انہوں نے وہاں کافی کرکٹ کھیلی ہے اور وہاں کے حالات سے ہم آہنگ ہوچکے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں انہیں ورلڈ کپ میں مدد مل سکتی ہے ۔ انجم چوپڑہ نے تاہم اس خیال کا اظہار بھی کیا کہ کھلاڑیوں کو گھروں سے دوری کے اثرات متاثر کرسکتے ہیں کیونکہ آسٹریلیا کا دورہ گذشتہ سال نومبر میں شروع ہوا تھا ۔ اتنا زیادہ وقت آسٹریلیا میں گذارنے سے انہیں گھروں سے دوری کا احساس ہوسکتا ہے ۔ درمیان میں دس دن کا جو وقفہ رہا ہے اگر انہیں وطن آکر دوبارہ آسٹریلیا جانے کی اجازت ملتی تو اس سے انہیں فائدہ ہوتا ۔ انہوں نے کہا کہ 1992 کے ورلڈ کپ کے وقت بھی ایسا ہوا تھا ۔ اس وقت بھی ٹیم نے ٹسٹ سیریز اور ونڈے سہ رخی سیریز میں شکست کھائی تھی تاہم اب امید ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہرائیگی نہیں۔