کرناٹک کے اقامتی اسکولوں میں عنقریب پی یو سی تک کی تعلیم

گلبرگہ ۔20؍مئی:(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ریاستی وزیر برائے سماجی بہبود ایچ آنجنیا نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت کی طرف سے چلائے جانے والے تمام اقامتی اسکولوں میں پی یو سی سال دوم تک تعلیم کا انتظام زیر غور ہے۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ فی الوقت ریاست میں مرارجی دیسائی ، کتور رانی چنما اور ایکلویا اقامتی اسکولوں میں صرف دسویں جماعت تک تعلیم کی سہولت دستیاب ہے۔ دسویں جماعت کے بعد غریب طلبا کو اپنی تعلیم جاری رکھنے میں دقتیں پیش آتی ہیں، اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے محکمہ اس بات پر غور کررہا ہے کہ ان اسکولوں میں پی یو سی سال دوم تک تعلیم کا انتظام کرنے کیلئے پری یونیورسٹی ایجوکیشن بورڈ کے افسران کو طلب کیا جائے اور ان سے بات چیت کی جائے۔ انہوںنے کہاکہ پی یو سی سال دوم تک تعلیم کیلئے موجودہ اقامتی اسکولوں کا انفرااسٹرکچر اگر ناکافی واقع ہوا تو اس کیلئے افزود انتظامات بھی کئے جائیں گے۔ مسٹر آنجنیا نے بتایاکہ رواں سال ایس ایس ایل سی امتحان میں اقامتی اسکولوں میں مقیم 96.97 فیصد بچے کامیاب ہوئے ہیں۔ اقامتی اسکولوں سے جملہ 18389 بچوں نے امتحان لکھا، جن میں سے صرف 558 بچے ہی ناکام رہے، باقی تمام بچوں نے بہترین مظاہرہ کیا ہے۔ انہوںنے کہا کہ اقامتی اسکولوں میں جو بچے امتحان میں ناکام ہوئے ہیں انہیں اسی سال سپلیمنٹری امتحان میں کامیاب بنانے کیلئے خصوصی کوچنگ کا انتظام بھی محکمہ کی طرف سے کیا جارہاہے۔ وزیر موصوف نے بتایاکہ امسال جن بچوں کو محکمۂ پسماندہ طبقات کے تحت ہاسٹل کی سہولت میسر نہ ہوسکی، انہیں ماہانہ 15سور وپیوں کا مشاہر ہ ودیا شری اسکیم کے تحت دیا جائے گا۔ محکمۂ درج فہرست ذاتوں اور قبائل اور اقلیتوں کیلئے بھی یہ اسکیم رائج ہے۔ مسٹر آنجنیا نے بتایاکہ ریاستی حکومت کی طرف سے 85سال بعد پہلی بار ریاست میں ذات پات کی بنیاد پر کروائے گئے سروے کا کام کامیابی سے پورا ہوچکا ہے۔ انہوںنے کہاکہ سروے کی تاریخ میں مزید توسیع کا امکان بالکل نہیں۔تمام اضلاع میں 99.46 فیصد کام مکمل کرلیا گیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ جو گھر اس سروے کے دوران چھوٹ گئے ہیں ان کا شمار کرنے کیلئے ثانوی سروے کرنا ہے یا نہیں اس سلسلے میں فیصلہ سروے کی ابتدائی رپورٹوں کے بعد ہی کیا جاسکتاہے۔ انہوںنے کہاکہ قومی سطح پر کی جانے والی مردم شماری کی مانند ریاست میں ذات پات کی بنیاد پر سروے ہر دس سال میں ایک بار کرنے کا محکمۂ سماجی بہبود سنجیدگی سے غور کررہاہے۔