بیدر /16 جون ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) پی یو سی نصابی کتابوں کی طباعت اور تقسیم کام میں کی گئی بدعنوانیوں کے تعلق سے تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے ۔ بدعنوانیوں میں ملوث عہدیداروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔ وزیر پرائمری اور ہائی اسکول تعلیم مسٹر کے رتناکر نے یہ بات بتائی ۔ انہوں نے بتایا کہ یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ پی یو سی نصابی کتابوں کی طباعت اور تقسیم میں تاخیر کیلئے عہدیداروں کی لاپرواہی ہی اہم وجہ ہے ۔ اس تعلق سے محکمہ جاتی تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے ۔ رپورٹ موصول ہونے کے بعد عہدیداروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ رتناکر نے بتایا کہ ان کے وزیر بننے کے بعد ماہ اگست میں عہدیداروں کی میٹنگ منعقد کرکے جلد سے جلد ٹنڈر سرگرمیاں مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی تھی ۔ لیکن عہدیادروں کی لاپرواہی کے سبب پی یو سی نصابی کتابوں کی طباعت اور تقسیم میں تاخیر ہوئی ۔ ساتھ ہی ساتھ ٹنڈر مسئلہ عدالت میں کیا گیا ہے ۔ وزیر تعلیم نے اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ 15 جون سے قبل پی یو سی نصابی کتابیں تمام طلباء کو حاصل ہوں گی ۔ حکومت کا یہ موقف ہے کہ ہر ایک میڈیم اسکول کیلئے ایک ہیڈ ماسٹر رہے اسی لئے اسسٹنٹ ٹیچرس کو ترقی دی جارہی ہے ۔ اسکول میں بیت الخلاء اور پینے کے پانی کی سہولت فراہم کرنے کے مقصد کے تحت ہر اسمبلی حلقہ کیلئے 40 لاکھ روپئے خرچ کئے جئایں گے ۔ کاموں کی تعلق سے فہرست فراہم کرنے تمام ارکان اسمبلی سے خواہش کی گئی ہے ۔ مدارس کیلئے ضروری پینے کے پانی ، بیت الخلاء اور درستگی کے کاموں کیلئے ہر ضلع میں تقریباً 80 کروڑ روپئے خرچ کرکے مختلف اسکیمات پر عمل آوری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ وزیر تعلیم رتناکر نے مزید بتایا کہ شوہر اور بیوی جو ٹیچرس ہیں ان کا ایک ہی جگہ تبادلہ کرنے کا موقع فراہم کرنے کیلئے نیا قانون بناکر لاگو کیا جائے گا ۔ موجودہ قانون کے مطابق شوہر اور بیوی کا ایک ہی اسکول میں یا ایک ہی مقام پر تبادلہ کرنے کی گنجائش نہیں ہے ۔ اس لئے شوہر اور بیوی کا ایک ہی اسکول میں یا ایک مقام پر تبادلہ کرنے کی گنجائد نہیں ہے ۔ اس لئے اس تعلق سے نیا قانون بنایا جارا ہے ۔ شوہر اور بیوی ٹیچرس ہیں تبادلوں کے خواہش کرتے ہوئے جو درخواستیں داخل کی گئی ہیں ۔ یہ تعداد 5 فیصد سے زیادہ ہے ۔ لیکن موجود قانون می ںایک فیصد تبادلے کی گنجائش موجود ہے ۔
٭٭محکمہ تعلیمات میں واقع مسائل کو حل کرنے کیلئے وزیر تعلیم نے کوئی توجہ نہیں دی ۔ یہ بات رکن کونسل نے بتائی ۔ آج بنگلور یونیورسٹی میں ٹیچرس کونسل کی میٹنگ کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ محکمہ تعلیمات میں بدعنوانیوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے ۔ اساتذہ کے مسائل سنگین بن گئے ہیں ۔ اساتذہ کے مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے ۔ لیکن توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔ رکن کونسل نے بتایا کہ ریاستی وزیر تعلیم کو چاہئے کہ محکمہ کے مسائل کو حل کرنے توجہ دیں ۔