بیدر /18 نومبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ریاست میں ماہ اگست اور ستمبر میں ہوئی موسلادھار بارش سے ہوئی فصلوں کے نقصان کا معاوضہ ادا کرنے 266 کروڑ روپئے امداد کیلئے مرکزی حکومت کو یادداشت حوالے کی گئی تھی لیکن مرکز نے اب تک کوئی امداد ج اری نہیں کی ۔ ریاستی وزیر زراعت کرشنا بیڑے گوڑا نے بتایا کہ امداد کیلئے 19 ستمبر کو تجویز مرکزی کو پیش کی گئی لیکن مرکزی ٹیم دیڑھ ماہ تاخیر سے روانہ کی گئی ۔ مرکزی حکومت کے عہدیداروں کی ٹیم نے ریاست کا دورہ کیا اور نقصانات کا معائنہ کیا ۔ اس کے باوجود بھی آج تک کوئی امداد جاری نہیں ہوئی ۔ ریاست کے 34 تعلقہ جات خشک سالی سے متاثرہ ہیں۔ خشک سالی امدادی کاموں کیلئے امداد جاری کرنے وزیر مال نے مرکزی حکومت کو یادداشت پیش کی ہے ۔ لیکن مرکزی حکومت نے خشک سالی امدادی کاموں کیلئے بھی کوئی رقومات جاری نہیں کئے ۔ مرکز سے رقومات حاصل نہ ہونے کے باوجود ریاستی حکومت نے آفات سماوی فنڈ سے 537 کروڑ روپئے رقومات امدادی کاموں کیلئے جاری کئے ہیں ۔ پیاز کی قیمت گھٹ جانے سے کسان پریشان ہیں ۔کسانوں کو تحفظ کرنے 36 کروڑ روپئے جاری کئے گئے ہیں ۔ ریاست کے آفات سمادی فنڈ کی مکمل رقومات کا استعمال کیا گیا ہے ۔ زرعی یونیورسٹی کی ترقی کیلئے 212.50 کروڑ روپئے زائد رقم فراہم کی جارہی تھی ۔ حیدرآباد کرناٹک ڈیولپمنٹ بورڈ کی جانب سے یہ رقم فراہم کرنے تجویز پیش کی جارہی ہے ۔ وزیر زراعت نے بتایا کہ ریاست میں زرعی کالج کا آغاز کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے لیکن کالج کے آغاز میں دشواری پیش آرہی ہے ۔ ریاستی کابینہ میں توسیع کا فیصلہ چیف منسٹر کرناٹک مسٹر سدرامیا کریں گے ۔ ریاست میں کئی لیڈرس سینئیر ہیں وہی فیصلہ کریں گے ۔ کابینہ کی تشکیل جدید ہوگی یا توسیع کی جائے گی اس سوال کا جواب بھی چیف منسٹر کرناٹک مسٹر سدرامیا ہی دیں گے ۔