کرسی پر نماز پڑھنے والے صف کے درمیان پڑھیں یا کنارہ پر

سوال : فرض نمازوں کی ادائیگی کیلئے صفوں کو درست کرنے کی سخت تاکید ہے، اسی طرح سے مونڈھے سے مونڈھا ملاکر دیوار کی طرح صفوں کو درست کرنے کی تاکید کی گئی تاکہ درمیان میں جگہ خالی نہ رہے۔ موجودہ حالات میں مساجد میں کرسیوں کا انتظام کیا گیا ہے تاکہ ضعیف ، معذور، بیمار مصلیوں کو نماز ادا کرنے میں سہولت ہو، دیکھا یہ جارہا ہے کہ اگر یہ حضرات کرسیاں لیکر صف میں جہاں جگہ خالی ہو شریک ہوکر نماز ادا کر رہے ہیں جس کی وجہ سے خالی جگہ چھوٹ رہی ہے۔
دریافت طلب امر یہ ہے کہ کرسیوں پر بیٹھ کر نماز ادا کرنے والے حضرات صف میں کہاں نماز ادا کریں جہاں جگہ خالی ہو وہاں پڑھیں یا صف کے کنارہ پر پڑھیں۔
محمد عبدالحمید، جہاں نما
جواب : حیدرآباد اور مضافات میں کرسیوں پر نماز پڑھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتے جارہا ہے، اس کی وجہ سے بعض شکوک و شبہات بھی پیدا ہورہے ہیں۔
پس دریافت شدہ مسئلہ میں شرعاً معذور (جس کو عذر لاحق ہو) کو بیٹھ کر نماز پڑھنے کی اجازت ہے ۔ ازروئے شرع معذور اور غیر معذور شخص کے لئے صف میں کوئی جگہ مختص نہیں ہے ۔ سب یکساں صف میں نماز پڑھیں گے ۔ کرسی پر نماز پڑھنے کی وجہ مونڈھے سے مونڈھا نہ ملنے اور صف میں اتصال باقی نہیں رہنے کا اندیشہ ہورہا ہے تو اس کے لئے بہتر صورت یہی ہے کہ مسجد میں اتنے حضرات ہوں کہ جن سے صف پوری ہوجاسکتی ہے ۔ ضعیف و معذور اصحاب کو چاہئے کہ وہ درمیان صف پڑھنے کے بجائے کنارہ پر نماز پڑھ لیں اور اگر اقامت کے وقت اتنے لوگ نہ ہوں جن سے صف مکمل ہوتی ہو تو ایسے وقت ضعیف و معذور اصحاب صف جہاں ختم ہورہی ہے وہاں کھڑے ہوجائیں۔ بعد میں آنے والے حضرات ان کے بازو نماز ادا کر یں گے، اس کی وجہ سے صف میں اتصال نہ ہونے کا اندیشہ نہ کیا جائے کیونکہ یہاں عذر ہے، عمداً جگہ نہیں چھوڑی جارہی ہے ۔ نیز ہر حال میں ضعیف اور معذور حضرات کو صف کے کنارے پر نماز ادا کرنے کیلئے کہا جائے تو بسا اوقات صف مکمل نہیں ہوتی اور درمیان میں جگہ خالی رہ جائے گی جو مناسب نہیں ہے اور اقامت وقت اتنے افراد ہوں جن سے صف مکمل ہوسکتی ہو تو ایسے وقت ضعیف معذور اصحاب کا درمیان صف نماز پڑھنے پر اصرار کرنا مناسب حال نہیں۔

ویزٹ ویزا پر عمرہ کرنے والے کیلئے احرام
سوال : میرے بچے سعودی عرب جدہ میں ملازمت کرتے ہیں اور اپنے بیوی بچوں کے ساتھ وہاں مقیم ہیں۔ مجھے اور میری اہلیہ کو وزٹ ویزا پر بلانا چاہتے ہیں تاکہ ہم دونوں عمرہ کا شرف حاصل کرسکیں اور روضۂ مبارک کی زیارت سے سرفراز ہوں۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ عمرہ کا احرام باندھنے کیلئے ہماری میقات کونسی جگہ ہوگی ۔ ہم حیدرآباد سے جدہ جارہے ہیں۔ وہ بھی وزٹ ویزا پر گو کہ عمرہ کی نیت اور ارادہ ہے اور ہم جدہ کے مقیم بھی نہیں کہلاتے۔ شرعی احکام کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں تو مجھے اور میرے جیسے اور لوگوں کیلئے باعث رہنمائی ہوگی۔
محمد عبداللہ، فاطمہ نگر
جواب : میقات سے باہر رہنے والے (آفاقی) کا ارادہ اگر حرم جانے کا ہو تو اسے میقات ہی سے عمرہ کا احرام باندھنا ضروری ہے اور اگر وہ (حل) میقات کے اندر کسی ایسی جگہ جو حرم کے باہر ہو جیسے خلیص جدہ وغیرہ کا ارادہ رکھتا ہو تو اسے بغیر احرام میقات سے گزرنے کی اجازت ہے ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی میقات سے متعلق ایک طویل حدیث شریف کے آخری حصہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ الفاظ منقول ہے کہ فرمایا ومن کان دون ذلک فمن حیث انشاء حتی اھل مکۃ من مکۃ (عمدۃ القاری 139/9 )اور درمختار میں ہے۔ امالو قصد موضعا من الحل کخلیص وجدہ حل لہ مجاوزتہ بلا احرام فاذا احل بہ التحق باھلہ۔
پس صورت مسئول عنھا میں آپ نے بغرض عمرہ ملاقاتی ویزا (ویزٹ ویزا) حاصل کیا ہے اور عمرہ ہی کی نیت سے گھر سے نکل رہے ہیں تو آپ کو میقات سے پہلے ہی احرام باندھ لینا ضروری ہے اور اگر آپ کا مقصد جدہ میں آپ کے بچوں سے ملاقات ہو تو آپ احرام کے بغیر جدہ جاسکتے ہیں اور وہاں جانے کے بعد آپ عمرہ کا ارادہ کریں تو وہیں سے احرام باندھ سکتے ہیں اور ہندوستانی حجاج و معتمرین کیلئے یلملم میقات سے گزرنا ہوتا ہے اور وہ ہوائی جہاز سے سفر کے درمیان آجاتی ہے اور دوران سفر احرام باندھنا دشوار ہوتا ہے تو آپ حسب سہولت گھر سے یا ایرپورٹ پر احرام باندھ لیں اور ہوائی جہاز میں سوار ہونے کے بعد میقات کے قریب نیت کرلیں ۔ واللہ اعلم۔

دیور موت ہے
سوال : زینب کے شوہر بیرون ملک روزگار کے سلسلہ میں قیام کئے ہوئے ہیں ۔ ندا اپنے سسرال والوں کے ہمراہ رہتی ہے ۔ ندا کا ایک دیور بھی ہے جو بیرون ملک برسر خدمت تھا لیکن اب اپنے والدین کے پاس ہی رہتا ہے ۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ندا کا مذکورہ دیور اپنی بھاوج کے ساتھ بے تکلفی کے ساتھ رہنے کی کوشش کرتا ہے ۔ بے باکانہ کمرہ میں داخل ہوجاتا ہے ، کبھی ہاتھ تھام لیتا ہے اور انداز کلام بھی بے باکانہ و نامناسب رہتا ہے۔ اپنے دیور کے نازیبا و ناشائستہ طرز عمل کی اطلاع ندا نے اپنے شوہر کو کئی مرتبہ فون کے ذریعہ دے چکی ہے ۔ شوہر محترم بھی اس کی تاویل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ تمہارا دیور ہے تم اس کی بھاوج ہو۔ دیور و بھاوج کا ایک دوسرے سے مذاق کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔ ان حالات میں ندا کو سخت خوف ہے کہ خدانخواستہ کہیں کوئی غلطی کا ارتکاب نہ ہوجائے۔ اس لئے نداکو کیا راستہ اختیار کرنا چاہئے ۔
نعیم الدین،جھرہ
جواب : رشتہ دار دو طرح کے ہیں ، ایک محرم دوسرے غیر محرم ، محرم رشتہ دار وہ ہوتے ہیں جن سے ابدی طور پر نکاح حرام ہوتا ہے، جیسے والد بھائی ، چچا ، ماموں ، بھانجہ ، بھتیجہ وغیرہ ان سے خواتین کو پردہ کرنا نہیں ہے ۔ غیر محرم وہ رشتہ دار کہلاتے ہیں جن سے رشتہ نکاح ابدی طور پر حرام نہیں۔ جیسے دیور و دیگر رشتہ کے بھائی و دیگر رشتہ کے بھانجے ، بھتیجے و دیگر رشتہ کے ماموں چچا و غیرہ و دیگر اجانب کو ان سے رشتہ نکاح جائز ہے اس لئے ان سے پردہ کرنا شرعاً ضروری ہے۔ غیر محرم رشتہ داروں میں ’’ دیور‘‘ سے خاص طور پر احتیاط برتنے کی شریعت نے تاکید کی ہے کیونکہ اس سے زائد فتنہ کا اندیشہ ہے اس لئے حدیث پاک میں اس کو موت سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ خاص طور پر تنہائی کے مواقع میں اس دیور کا بھاوج سے ملنا ، بات چیت کرنا شرعاً درست نہیں۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایاکم والد خول علی النساء فقال رجل یا رسول اللہ افرأیت الحمو قال الحمو الموت ۔ (بخاری شریف) (مشکوٰۃ ص : 268 ) اس کے حاشیہ ص : 5 میں ہے ۔ قولہ الحموالموت ھذہ الکلمۃ یقولہا العرب للتنبیہ علی الشدۃ والفظاعۃ … والمراد تحذیر المرأۃ منھم فان الخوف من الاقارب اکثر والفتنۃ منھم اوقع لتمسکھم من الوصول والخلوۃ من غیر نکیر۔
اس لئے دیور پر شرعاً مذکورہ در سوال امور سے سخت اجتناب لازم ہے۔ کیونکہ تنہائی کے موقع پر بھاوج کے کمرہ میں داخل ہونا و دیگر قابل اعتراض برتاؤ (مذکورہ در سوال) سخت گناہ ہے۔ بھاوج کو چاہئے کہ ہر طرح اپنی حفاطت کا بندوبست کرے جب بھی دیور گھر میں رہے وہ اس وقت اپنی ساس کے ساتھ رہے۔ شوہر پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنے بھائی کو غیر شرعی امور کے ارتکاب سے بچنے کی ہدایت کرے۔ اگر دیور اس کے باوجود اپنے طرز عمل سے باز نہ آئے تو شوہر کی ذمہ داری ہے کہ اپنی بیوی کی حفاظت اور اس کو باعصمت رکھنے کا مناسب انتظام کرے۔

فاسق و فاجر کی نماز جنازہ
سوال : عمرنے ایک غیرمسلم لڑکی سے شادی کی، وہ لڑکی اسلام قبول کرلی اور اس کا نام ہندہ رکھا گیا۔ عمر کو ہندہ کے بطن سے دو لڑکیاں اور ایک لڑکا تولد ہوا ہے۔ سب شادی شدہ ہیں۔ لڑکا غلط ماحول کی وجہ سے نماز روزہ سے بالکل عاری تھا جبکہ زید نماز کا پابند اور مسجد کا ماہانہ چندہ وغیرہ ادا کرتا ہے۔ اس لڑکے کا انتقال ہوگیا ۔ کیا اسکو مسلم قبرستان میں دفن کیا جائے گا ؟
– 2 اس لڑکے نے پروایڈنٹ فنڈ اور سرویس میں بیوی کے بجائے اپنے والد عمر کو نامزد کیا، اس کے ورثاء میںایک بیوی ، والدین ، دو لڑکے اور ایک لڑکی ہیں؟
احمد قادری ، رکاب گنج
جواب : بے نمازی اور روزے چھوڑنے والا بے عمل شخص فاسق و فاجر ہے اور اہل السنتہ والجماعتہ کے عقیدہ میں ازروئے اجماع امت فاجر و فاسق مرجائے تو اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور اس کو مسلم قبرستان میں دفن بھی کیا جائے گا۔ شرح عقائد نسفی مطبوعہ یوسفی ص : 115 میں ہے ( و یصلی علی کل بر و فاجر) اذا مات علی الایمان للاجماع و لقولہ علیہ السلام : لا تدعوا الصلاۃ علی من مات من أھل القبلۃ اور الجوہرۃ النبرۃ باب الجنائز ص : 107 میں ہے : قال علیہ السلام صلوا علی من قال لا الٰہ الأ اللہ ولا خلاف فی ذلک اور در مختار برحاشیہ رد المحتار جلد اول باب الجنائز ص : 643 میں ہے (من قتل نفسہ) ولو (عمدا یغسل و یصلی علیہ ) بہ یفتی ۔ رد المحتار میں ہے (قولہ بہ یفتی) لأنہ فاسق غیر ساع فی الأرض بالفساد و ان کان باغیا علی نفسہ کسائر فساق المسلمین۔پس صورت مسئول عنہا میں زید کے لڑکے پر نماز جنازہ پڑھی جائے اور اس کو مسلم قبرستان میں دفن کیا جائے ۔
– 2 اس کی متروکہ رقومات سے تجہیز و تکفین کے مصارف وضع کئے جاکر جس نے خرچ کئے ہیں اس کو دئے جائیں، پھر مرحوم کا قرض اور بیوہ کا زر مہر ادا کیا جائے ۔ اس کے بعد مرحوم نے اگر کسی غیر وارث کے حق میں کوئی وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے تیسرے حصہ سے اس کی تعمیل کی جائے ۔ بعد ازاں جو باقی رہے اس کے ایک سو بیس (120) حصے کر کے بیوہ کو پندرہ (15) ، ماں باپ سے ہر ایک کو بیس بیس (20,20) ، دونوں لڑکوں کو چھبیس چھبیس (26,26) اور لڑکی کو تیرہ (13) حصے دئے جائیں۔

والدین کو برائی سے روکنا یا نہیں
سوال : میرے والد نہایت اچھے انسان ہیں، وہ ہمارا بہت خیال رکھتے ہیں لیکن ان میں ایک خامی ہے کہ وہ کبھی کبھی شراب پیتے ہیں، مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے اور وہ نمازوں کا زیادہ اہتمام نہیں کرتے ۔ میں نماز پابندی سے پڑھتا ہوں۔ مجھے ڈر ہوتا ہے کہ ان کو شراب پینے اور نماز ترک کرنے کی وجہ سے آخرت میں عذاب ہوگا ۔ اس کے علاوہ دنیوی اعتبار سے وہ بہت اچھے انسان ہیں۔ ایسی صورت میں مجھے کیا کرنا چاہئے میں ان کو سمجھا نہیں سکتا ۔ مجھے ڈر ہوتا ہے ۔ مجھے کیا کرنا چاہئے ۔
عبدالرحمن ،ای میل
جواب : امر بالمعروف اور نہی عن المنکر، ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے ۔ اگر کوئی لڑکا اپنے والدین میں غیر شرعی عمل کو دیکھے تو اس کو اجازت ہے کہ وہ نہایت ادب و احترام کے ساتھ ان کی خدمت میں اس عمل کی برائی کو ظاہر کرے اور نہایت سنجیدگی اور نرمی سے ان کو اس عمل سے روکے لیکن ان کو شدت سے نہیں روکنا چاہئے ۔ اگر وہ بات قبول کرلیں تو ٹھیک ورنہ ان کے لئے اللہ سے دعائیں کرتے رہے۔ نفع المفتی والسائل ص : 107 میں ہے : فان الامر بالمعروف والنھی عن المنکر فیہ منفعۃ من امرہ و نھیہ عن المنکر والاب والام أحق بأن ینفع لھما … لکن ینبغی ان لا یعنف علی الوالدین فان قبلا فبھا والا سکت و اشتغل بالا ستغفار لھما کذا فی نصاب الاحتساب۔

Leave a Comment