کاغذ نگر :23؍ مارچ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) مسٹر کونیر کونپا سابقہ رکن اسمبلی سرپور نے اپنی رہائش گاہ پر نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ 1994 ء کے اسمبلی الیکشن میں کانگریس پارٹی کی ضمانت ضبط ہوگئی تھی کانگریس پارٹی میں ایسی کوئی پر اثر شخصیت نہیں تھی جو کانگریس پارٹی کے پودے کی آبیاری کرسکے ۔ ایسے حالات میں انہوں ے کانگریس پارٹی میں رہ کر پارٹی کی خدمات کی تشہیر کی تو کانگریس پارٹی کو تقویت پہنچی ورنہ کانگریس پارٹی کا نام و نشان ہی ختم ہونے والا تھا ایسے حالات میں انہو ںنے کانگریس پارٹی کو مستحکم بنایا جب پارٹی دم توڑ رہی تھی۔ 2004 ء کے اسمبلی الیکشن میں کانگریس پارٹی کو کامیابی حاصل ہونے والی تھی لیکن آنجہانی پرشوتم راو امیدوار کو نکسلائیٹ نے گولی ماردی اسی ہمدردی میں ان کی اہلیہ شریمتی پالوائی راجیہ لکشمی کو کامیابی حاصل ہوئی لیکن 2004 کے اسمبلی الیکشن میں ان کی کاوش و محنت رنگ لائی اور مسٹر کونیرو کونپا نے کانگریس پارٹی میں رہ کر اپنے ساتھیوں اور کانگریسی قائدین کے تعاون سے الیکشن جیتنے میں کامیاب ہوگئے جس کی وجہ سے ان کی محنت رائیگاں نہیں گئی اور پارٹی میں انہو ںنے روح پھونک دی جس کا سہرا مسٹر کونیرو کونپا کے سر جاتا ہے انہوں نے کہا کہ مسٹر کرن کمار ریڈی کی بے رخی کی وجہ اور علحدہ تلنگانہ کی مخالفت کرنے کی وجہ ان کو کانگریس پارٹی سے سبکدوش ہونا پڑا ۔ انہوں نے وائی ایس آر کانگریس میں شمولیت حاصل کی لیکن یہ پارٹی بھی علحدہ تلنگانہ کی مخالفت کرنے سے انہوں نے اس سیاسی پارٹی کو بھی خیر باد کہہ دیا۔
آخر میں انہوں نے کانگریس پارٹی کے ذمہ داران سے اپیل کی کہ انہیں دوبارہ کانگریس پارٹی میں رہ کر غریب عوام کی خدمت کرنے کا موقع دیا جائے کیونکہ انہو ںنے گذشتہ اسمبلی الیکشن میں ہارنے کے باوجود غریب عوام سے رابطہ برقرار رکھا اور ان کی خدمت کیلئے اپنی زندگی وقف کردی مسٹر کونیر و کونپا نے کہا کہ میونسپل الیکشن میں ان کے ساتھی آزاد امیدوار کی حیثیت سے حصہ لے رہے ہیں اور جہاں جہاں کانگریس امیدوار نے پرچہ نامزدگی داخل کی اس علاقہ میں انہوں نے اپنے امیدوار کو موقع نہیں دیا کیونکہ کانگریس پارٹی کی مخالفت انہیں منظور نہیں انہوں نے کانگریس پارٹی میں شمولیت کے تعلق سے مسٹر پنالہ لکشمیاں سابقہ منسٹر اور صدر ٹی پی سی سی کے علم میں بھی یہ بات لائی کہ انہیں کانگریس پارٹی میں شمولیت کا موقع دوبارہ دیا جائے ۔ اس موقع پر جناب خضر حسینی سرپنچ، مسٹر کونیرو کونپا مسٹر کٹے پرساد اور مسٹر سی ایچ اوماجی کے علاوہ دیگر قائدین موجود تھے۔