مانک راؤ ٹھاکرے کو ہٹائے جانے کا مطالبہ
پریہ دت اور گروداس کامت نے شکست تسلیم کرلی
ممبئی۔/16مئی، ( سیاست ڈاٹ کام ) ریاست مہاراشٹرا میں کانگریس کی زبردست شکست کے بعد اب ایک دوسرے پر الزام تراشی کا کھیل شروع ہوگیا ہے۔ حالانکہ انتخابات کے مکمل نتائج اب تک قطعی طور پر سامنے نہیں آئے ہیں لیکن کانگریس جس نے ریاست میں 27نشستوں پر مقابلہ کیا تھا، ناندیڑ کے سوائے تمام حلقوں میں ووٹوں کی گنتی کے دوران اپنے حریف امیدواروں سے پیچھے ہے۔ ناندیڑ میں سابق وزیر اعلیٰ اشوک چوان کو اپنے بی جے پی حریف امیدوار پر سبقت حاصل ہے۔ ریاست کی تاریخ میں کانگریس نے اتنا ناقص مظاہرہ کبھی نہیں کیا
جبکہ ریاست مہاراشٹرا کو کانگریس کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔ دریں اثناء وزیر اعلیٰ کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ اس شرمناک شکست کی اخلاقی ذمہ داری مانک راؤ ٹھاکرے کو قبول کرتے ہوئے ریاستی کانگریس سربراہ کی حیثیت سے مستعفی ہوجانا چاہیئے۔ ٹھاکرے گذشتہ چھ سال سے پارٹی اُمور انجام دے رہے ہیں اور ان کا ریکارڈ بد سے بدتر ہوتا جارہا ہے۔ کانگریس کی ناقص کارکردگی دراصل غیر غیر منظم پالیسی کا نتیجہ ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی عہدیدار اب مانک راؤ ٹھاکرے کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ پارٹی ایم پی پریہ دت نے بھی اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ عوام کا فیصلہ انھیں منظور ہے۔ انہوں نے بی جے پی امیدوار پونم مہاجن کی کامیابی پر انہیں مبارکباد دی۔ کانگریس کے ایک اور سینئر امیدوار گروداس کامت نے بھی شیو سینا کے گجانن کیرتیکر کو کامیابی پر مبارکباد دی۔