کانگریس وزیر شام لال شرما عمر عبداللہ وزارت سے مستعفی

جموں 25 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) جموں و کشمیر میں انتخابات سے قبل کانگریس کے وزیر شام لال شرما نے عمر عبداللہ وزارت سے استعفی دیدیا ہے ۔ شام لال شرما کو حالیہ سیلاب سے نمٹنے پر مختلف گوشوں سے تنقیدوں کا سامنا تھا ۔ انہوں نے یومیہ اجرت پانے والے ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کی کوششوں کو سبوتاج کئے جانے کو اپنے استعفی کی وجہ قرار دیا ہے ۔ انہوں نے کل شام جموں وکشمیر کانگریس کے سربراہ پروفیسر سیف الدین سوز سے ملاقات کرکے اپنا مکتوب استعفی پیش کردیا ہے ۔ شرما ریاست کی عمر عبداللہ وزارت میں پبلک ہیلت انجینئرنگ اور فلڈ کنٹرول کے وزیر تھے ۔ انہوں نے آج بتایا کہ چونکہ چیف منسٹر عمر عبداللہ شہر سے باہر ہیں اس لئے انہوں نے پروفیسر سیف الدین سوز کو اپنا استعفی پیش کیا ہے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ نیشنل کانفرنس کے لیڈر اور وزیر فینانس عبدالرحیم راتھیر ریاست میں یومیہ اجرت پانے والے مزدوروں اور ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کی کوششوں کو سبوتاج کر رہے ہیں۔عبدالرحیم راتھیر ریاست میں 1994 سے مختلف وقتوں میں یومیہ اجرت پر مقرر کئے گئے ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کی کابینی سب کمیٹی کے سربراہ بھی ہیں۔ مسٹر شرما نے کہا کہ اتنی بھاری تعداد میں عارضی ورکرس کو انصاف سے محروم کیا جا رہا ہے ۔ ریاست میں 2009 میں کابینی سب کمیٹی تشکیل دی گئی تھی تاکہ تمام ملازمین اور ورکرس کی شکایات کا جائزہ لیا جاسکے تاہم اب تک اس کمیٹی نے کچھ بھی نہیں کیا ہے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ چونکہ یومیہ اجرت پانے والے ورکرس کی تعداد جموں سے زیادہ تعلق رکھتی ہے اس لئے نیشنل کانفرنس قائدین اس راہ میں رکاوٹ پیدا کر رہے ہیں۔