کانگریس آبادی کے تناسب سے اقتدار میں مسلمانوں کی حصہ داری کو یقینی بنائے : اسلامک پیس فاؤنڈیشن

پٹنہ 13دسمبر (سیاست ڈاٹ کام) پانچ ریاستوں میں ہونے والے انتخابات میں عوام نے جس طرح ہوش مندی اور سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرکے فسطائیت اور اقتدارکے نشے میں چورو مغرورطاقت کو سبق سکھایا ہے اس سے پوری دنیا میں بہترین پیغام گیا ہے ۔ یہ بات معروف سماجی کارکن او راسلامک پیس فاؤنڈیشن آف انڈیا کے چیرمین مولانا سید طارق انور نے کہی۔انہوں نے کہاکہ ان نتائج نے ساری دنیا کو یہ بتا دیاہے کہ حقوق غصب کرنے والے نفرت کے طوفان میں ابھی اتنی طاقت نہیں کہ گنگاجمنی ،خیر سگالی او رباہمی محبت کے چراغوں کو بجھا سکیں۔ان پانچ ریاستوں کی عوام خصوصاً مسلمانوں نے جس اتحاد ویکجہتی اور بیداری کا مظاہرہ کیا ہے وہ جمہوریت کی بقا اور قانون کی بالادستی کے لئے روشن ثابت ہونگے ۔انہوں نے کہاکہ پانچوں ریاستوں کے عوام نے فرقہ پرست عناصر کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ اب ہم ہندوستانی عوام کو زیادہ دنوں تک بے وقوف نہیں بنایا جاسکتا ہے ،اب ہم بیدار ہوچکے ہیں ، ہمیں کوئی بھی سیاسی جماعت عوامی مسائل سے گمراہ کرکے ہندومسلم ، مندرمسجد اور سماج کو بانٹنے کی نفرت پر مبنی سیاست میں نہیں الجھاسکتی ۔ انہوں نے کہا کہ ان پانچوں ریاستوں کے عوام قابل مبارکباد ہیں کہ جنہوں نے ان کے غرور پر خاک ڈالتے ہوئے ایسا سبق سکھایا ہے۔ کانگریس کی شاندار واپسی پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کانگریس نے جیت کا جو آغاز تین اہم ریاستوں سے کیا ہے وہ آئندہ سال کے اوائل میں ہونے والے عام انتخابات تک جاری رہے گا۔بہار کے نوجوان سماجی کارکن اور مسلم یوتھ موومنٹ کے ریاستی سکریٹری ارشاد انور نے پانچ ریاستوں کے انتخابی نتائج کو خوش آئنداور جمہوریت کی جیت بتاتے ہوئے کہا کہ عوام نے ایک خاص آدمی کی من کی بات سنتے سنتے اب اپنی من کی بات کا اظہار کردیا ہے اور سیکولرزم پر یقین رکھنے والی سیاسی جماعتوں کو اقتدار سونپ دیا۔