میدک میں ڈپٹی اسپیکر پدمادیویندر ریڈی کا صحافیوں سے خطاب
میدک ۔ /11 مئی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ریاستی حکومت نے کالیشورم پراجکٹ کی تعمیر کرکے ریاست کے 5 اضلاع کو زرعی مقاصد اور پینے کیلئے پانی کی سربراہی کا منصوبہ بنایا ہے ۔ اس مجوزہ پراجکٹ کی تعمیر کیلئے تلنگانہ سرکار مہاراشٹرا حکومت سے ایک معاہدہ بھی کرلیا ہے ۔ اس پراجکٹ کی تعمیر کیلئے حکومت نے 25 ہزار کروڑ روپئے صرف کرے گی ۔ اپوزیشن کانگریس کا کہنا غلط ہے کہ اس پراجکٹ کی تعمیر کیلئے حکومت مہاراشٹرا سے کوئی معاہدہ ہی نہیں ہوا ۔ کانگریس اس طرح کی اوچھی حرکت غیر ضروری بیانات جاری کرتے ہوئے عوام کو گمراہ کررہی ہے ۔ کے سی آر ریاست کو سرسبز شاداب بنانے کیلئے ایک منصوبہ کے ساتھ کام کررہے ہیں ۔ اپوزیشن جماعت محض اپنی تشہیر کیلئے حکومت تلنگانہ کے خلاف بیان بازی کررہی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار ریاستی ڈپٹی اسپیکر قانون ساز اسمبلی محترمہ ایم پدما دیویندر ریڈی نے میدک میں اپنے چیمبر میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ پیشرو حکومتوں نے گزشتہ 60 سالوں سے ریاست میں کوئی آبی پراجکٹ تعمیر نہیں کئے ۔ گزشتہ 60 سالوں سے تلنگانہ علاقہ سوتیلا طرز عمل کا شکار ہے ۔ علاوہ ازیں حکومت ملنا ساگر آبی پراجکٹ کے ذریعہ میدک اور نرساپور کو سرسبز شاداب بنانے کا منصوبہ بنایا ہے ۔ میدک اور نرساپور کی 6/50 لاکھ ایکڑ اراضی کو قابل کاشت بنایا جائے گا ۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ ضلع کھمم کی اسمبلی نشست پالیرو پر ٹی آر ایس اپنا قبضہ یقینی طور پر جمالے گی ۔ اس موقع پر صدرنشین بلدیہ مسٹر اے ملکارجن گوڑ ، رکن ضلع پریشد محترمہ لاورینا ریڈی ، بلدی کونسلرس مسرز اے نرسملو اور دیگر موجود تھے ۔