ڈی سی سی بینک بیدر میں خردبرد سے کسانوں کا غیرمعمولی نقصان

بیدر۔20اگست ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) بیدر کی ڈی سی سی بینک اور این ایس ایس کے لوک آیوکت کے ذریعہ جانچ کا مطالبہ رکن پارلیمان بھگونت کھوبا اور اوراد کے رکن اسمبلی پربھوراؤ چوہان نے کیا ہے ۔ شہر کی ایک ہوٹل میں صحافیوں سے خطاب کررہے تھے ۔ انہوں نے بتایا کہ ڈی سی سی بینک میں مالی خردبرد کی وجہ سے کسانو کو غیر معمولی نقصان پہنچ رہا ہے ۔ لہذا دودہ کا دودھ اور پانی کا پانی کرنے کیلئے لوک آیوکت کے ذریعہ جانچ کی جائے ۔ بھگونت کھوبا رکن پارلیمنٹ نے بتایا کہ مرکزی حکومت نے امدادی سوسائٹیز کیلئے جو قاعدہ بنایا ہے اس کے بموجب امدادی بینکوں کو چاہیئے کہ وہ کسانوں کو ہر ممکن سہولت دیں اور یہ ذمہ داری ریاستی حکومت کی بھی ہے لیکن بیدر ڈی سی سی بینک کی انتظامیہ کے کسانوںکو فائدہ پہنچانے کے بجائے صنعت کاروں کو فائدہ پہنچایا ہے جو اصل رقم بھی معاف کرتے ہوئے قانون باہر سہولتیں دینے سے کسانوں کا نقصان ہورہاہے ۔جوائنٹ رجسٹرار نے موجود انتظامیہ کو نااہل قرار دیا تھا جس کی بناء پر بینک والوں نے تین ماہ کی مہلت مانگی تھی وہ مہلت بھی 10جون 2014 کو ختم ہوچکی ہے ۔ ریاستی حکومت نے بھی معیاد کے ختم ہونے پر کوئی قدم نہیں اٹھایا جس سے مایوس ہوکر ہم لوک آیوکت جانچ کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ ڈی سی سی بینک کے موجودہ صدر ( گرپادپاناگمارپلی) نے اپنے بڑے بیٹے کو جو قرض دیا وہ انڈسٹری کے قیام کیلئے دیا اور اصل رقم میں سے ایک کروڑ کی رقم معاف کردی گئی چونکہ ان کے فرزند آنجہانی ہوچکے ہیں لیکن یہ معاملہ اس بینک کے ساتھ ہے۔

اس کے علاوہ کلرک اور اٹنڈر کے عہدوں کیلئے ساڑھے چار ہزار سے زائد درخواستیں نوجوانوں نے دی تھی لیکن ان نوجوانوں کو چھوڑکر 84 نوجوانوں کو راتوں رات نوکری دی گئی جبکہ اس وقت انتخابات کا عمل شروع ہوچکا تھا ۔ این ایس ایس کے بارے میں بتایا کہ اگر اس وقت کارخانہ بندکردیا جاتا ہے تو ایک ہزار 40 کرور کا نقصان ہوگا اور پھر جوسوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹل قائم کرنے کیلئے عوام میں شیرز فروخت کئے جارہے ہیں وہ غیرقانونی اس لئے ہیں کہ ہاسپٹل رجسٹرڈ نہیں ہے ۔ اب تک 30کروڑ سے زائد رقم جمع کی گئی ہے لہذا یہ کام 420 قانون کے تحت غلط قرار پاتا ہے اور پھر 30کروڑ کی رقم میں سے کہا گیا کہ 2کروڑ 90لاکھ روپئے ڈرا کئے گئے اور یہ رقم نکالنے کی بات شیرز ہولڈر کو معلوم نہیں ۔ اب جبکہ ہاسپٹل شروع ہوکر ایک سال 7ماہ ہوئے ہیں لیکن ابھی تک ہاسپٹل کے مقام پر سمنٹ کا ایک تھیلا نظر نہیں آتا ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہاسپٹل کی بات میں کتنی صداقت ہے ۔ لہذا ہمارا مطالبہ ہے کہ لوک آیوکت سے اس کی جانچ ہو پربھو راؤ چوہان رکن اسمبلی اوراد نے کہا کہ میں گذشتہ 6سال سے خاموش تھا ۔ اب میں اس معاملے کو اپنے ہاتھ میں لیا ہے ۔ اس کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ میں کسانوں کو انصاف دلاکر رہوں گا اور اس خصوصی میں جو معمولات میں نے اسمبلی میں حکومت سے دریافت کئے ہیں اور جو جوابات آئے ہیں جن سے میں بڑی حد تک مطمئن نہیں ہوں لیکن ان سوالات کے جوابات کی ایک بک لیٹ میں نے بنائی ہے ‘ اس موقع پر بی جے پی ضلع صدر شیوراج گندگے بھی موجود تھے ۔