پونے۔19 اپریل(سیاست ڈاٹ کام) چینائی سوپر کنگس تنازعات کے سبب اپنا گھریلو میدان بدل جانے کے بعد کل یہاں نئے گھریلو میدان پونے میں راجستھان رائلس کے خلاف پہلے مقابلے کے لئے اترے گی جہاں کپتان مہندر سنگھ دھونی کے لیے ٹیم کا فاتحانہ آغاز کا چیلنج ہو گا ۔آئی پی ایل ٹوئنٹی 20 کا دو مرتبہ خطاب جیت چکی چینائی تین میچوں میں دو کامیابی اور شکست کے بعد چوتھے نمبر پر ہے ۔لیکن چینائی کے گھریلو میدان بدل جانے سے ٹیم کے سامنے اب پنے میں گھریلو میچوں کو کھیلنا اور یہاں کی نئی وکٹوں کو اپنانا ایک اور چیلنج کی طرح ہے ۔بدعنوانی تنازعہ کی وجہ سے دو سال کی معطلی کے بعد ٹورنمنٹ میں واپسی کر رہی چینائی سوپر کنگ نے 11 ویں ایڈیشن میں واحد میچ ہی گھریلو چیپوک اسٹیڈیم میں کھیلا اور ریاست میں کاویری تنازعہ کے وجہ سے اب باقی کے تمام گھریلو میچ وہ پونے میں ہی کھیلے گی۔اگرچہ ایک بات اچھی ہے کہ اسے پونے میں بھی اپنے گھریلو حامیوں کی کمی محسوس نہیں ہوگی جو اپنا سارا کام کاج چھوڑ کر بڑی تعداد میں چوتھے میچ کیلئے موجود رہیں گے ۔چینائی سوپر کنگ کے قریب 1000 شائقین کی یلو بریگیڈ ٹرین سے پونے پہنچ رہی ہے اور پونے کو اپنے رنگ میں رنگنے کے لیے تیار ہے ۔پرستار اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے لیے تو تیار ہیں لیکن اب ذمہ داری کپتان دھونی اور ان کی ٹیم کی رہے گی کہ وہ بھی اپنی کارکردگی سے مطمئن کریں جنہیں اپنے گزشتہ میچ میں کنگز الیون پنجاب کے خلاف قریبی میچ میں چار رن سے شکست برداشت کرنی پڑی تھی۔چینائی نے ابھی تک ٹورنمنٹ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے لیکن پنجاب کے خلاف گزشتہ میچ میں وہ اچھی بیٹنگ کے باوجود ہدف سے صرف چار رنز ہی دور رہی تھی اور198 کے ہدف کے سامنے پانچ وکٹ پر 193 رن بنا کر میچ گنوا بیٹھی۔اس مقابلے میں بھی ہمیشہ کی طرح بہترین فنشر اور کپتان دھونی کا اہم کردار رہا جنہوں نے 44 گیندوں میں چھ چوکے اور پانچ چھکے لگاتے ہوئے ناقابل شکست 79 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی تھی۔اگرچہ اس میچ میں دھونی کی کارکردگی کو چھوڑ دیں تو ٹیم کے بولروں اور بیٹسمینوں نے مایوس کیا۔بولروں نے بہت مہنگا مظاہرہ کیا جس میں تجربہ کار آف اسپنر ہربھجن سنگھ چار اوور میں 41 رن دے کر سب سے مہنگے ثابت ہوئے تو دیپک چھر نے تین اوور میں 37 رن لٹایے اور خالی ہاتھ رہے ۔کیریبین آل راؤنڈر ڈیون براوو نے بھی اتنے ہی رنز لٹائے ۔ اگرچہ شین واٹسن، عمران طاہر اور شاردل ٹھاکر نے رن دینے کے ساتھ وکٹ بھی لئے ۔دوسری طرف بیٹسمینوں میں اوپنر واٹسن اور مرلی وجے اچھی شروعات نہیں دلا سکے ۔امباٹي رائیڈو 49 رنز اور دھونی کے ناٹ آؤٹ 79 رنز کے علاوہ بڑے ہدف کا تعاقب کرنے میں اور کسی کا کردار خاص نہیں رہا جبکہ اسٹار آل راؤنڈر رویندر جڈیجہ نے بھی 19 رنز ہی بنائے ۔راجستھان کی کارکردگی کو دیکھیں تو وہ بھی اپنے چار میچوں میں صرف دو ہی جیت سکی ہے ۔وہ بھی چنئی کی ہی طرح دو سال بعد ٹورنامنٹ میں واپسی کر رہی ہے اور کپتان اجنکیا رہانے کی قیادت میں اس نے اپنا پچھلا میچ گھریلو جے پور میدان پر کولکاتا کے خلاف سات وکٹ سے ہارا تھا۔راجستھان کے لئے بھی فی الحال بولنگ اور بیٹنگ دونوں شعبہ میں بہتر کارکردگی چیلنج بنا ہوا ہے ۔بیٹمینوں میں رہانے ، نوجوان سنجو سیمسن، ڈی آرکي شارٹ، جوس بٹلر اور بین اسٹوکس اس کے اچھے کھلاڑی ہیں۔ بولروں میں کرشپا گوتم، دھول کلکرنی، جے دیو انادکٹ اہم نام ہیں۔ گزشتہ میچ میں اس کے بولروں نے خاصا مایوس کیا تھا اور گوتم کے دو وکٹ کے علاوہ تمام بولر خالی ہاتھ رہے۔