چیف منسٹر پر سستی شہرت حاصل کرنے کا الزام

راہول گاندھی کی یاترا کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش پر کانگریس قائدین کی سخت تنقید

نظام آباد:14؍ مئی ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)سابق ارکان پارلیمنٹ پونم پربھاکر، سریدھر بابو، ایس راجیا، ضلع کانگریس صدر طاہر بن حمدان، مہیلا کانگریس صدر آکولہ للیتا نے آج کانگریس بھون میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر مسٹر چندر شیکھر رائو جان بوجھ کر آرٹی سی ملازمین سے ہڑتال کروائی اور عوام کو مشکلات سے دوچار کیا۔ انہوں نے کہا کہ آرٹی سی ملازمین حکومت کو ہڑتال سے قبل نوٹس دی تھی اور 43 فٹمنٹ دینے کا مطالبہ کیا تھالیکن چیف منسٹر نے آرٹی سی ملازمین کے مطالبہ سے ایک فیصد زیادہ 44فٹمنٹ منظور کرتے ہوئے سستی شہرت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ چیف منسٹر نے ہی ہڑتال کروائی اور خودہی عوام کو مشکلوں میں ڈھکیل دیا۔ جبکہ آرٹی سی ملازمین یونین کے صدر وزیر آبپاشی مسٹر ہریش رائو نے ہڑتال کے باوجود بھی مطالبہ کی یکسوئی کرنا مناسب نہیں سمجھا۔7دنوں تک ہوئی ہڑتال کے نقصانات کے ذمہ دارکون ہے اور اس کی وضاحت پیش کرنا بھی مطالبہ کیا۔ مسٹرپونم پربھاکر ٹی آرایس کی جانب سے راہول گاندھی کی یاترا کو سیاسی رنگ دئیے جانے کی کوشش پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے دور حکومت میں 70 ہزار کروڑ روپئے کے کسانوں کے قرضہ جات معاف کئے گئے جبکہ ٹی آرایس کے دور میں کتنے قرضہ جات معاف کئے گئے وضاحت پیش کرنے مطالبہ کیا۔ کسانوں سے ہمدردی اور اعتماد کی بحالی کیلئے راہول گاندھی دورہ کرتے ہوئے حکومت کی نظر کو کسانوں کی طرف مبذول کررہی ہے۔ لہذا حکومت کو راہول گاندھی سے اظہارتشکر کرنا چاہئے لیکن اس کے برخلاف راہول گاندھی پر تنقید کرنا سراسر غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آرایس نے انتخابات کے موقع پر تلنگانہ حکومت میں کوئی بھی دھرنا یا احتجاج نہیں ہونے کا اعلان کیا تھا لیکن 10 ماہ کے وقفہ گذرنے کے باوجود بھی احتجاجی پروگرامس جاری ہیں اس پر بھی وضاحت پیش کرنے کااظہار کیا۔ اس موقع پر صدر ضلع اقلیتی ڈپارٹمنٹ کانگریس سمیراحمد، پردیش کانگریس کے سکریٹری این رتناکر، ٹائون کانگریس صدر کیشو وینوو دیگر بھی موجود تھے۔