رائے پور 22 اگست (سیاست ڈاٹ کام)چھتیس گڑھ کے ضلع کانکیر میں آئندہ ماہ منعقد شدنی ضمنی انتخابات میں کانگریس کو سخت مقابلہ در پیش ہوسکتا ہے کیونکہ گذشتہ سال منعقد کئے گئے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو حکمراں جماعت بی جے پی سے ہنریمت اٹھانی پڑی تھی۔انتا گڑھ حلقہ رائے دہی میں قبائیلیوں کی اکثریت ہے۔یہاں کی نشست ریاست کے سابق وزیر جنگلات وکرم یوسینڈی،جو بی جے پی کے موجودہ ایم ایل اے ہیں،کے استعفی کے بعد مخلوعہ ہوگئی تھی۔ انہوں نے کانکیر سے لوک سبھا انتخابات میں کامیابی کے پیش نظر ایم ایل کی نشست سے استعفی دیدیا تھا ۔ دوسری طرف بی جے پی کو بھی پورا یقین ہے کہ وہ اس نشست پر کامیابی حاصل کرلے گی کیونکہ ضلع کانکیر کو بی جے پی کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے ۔ انتا گڑھ حلقہ رائے دہی کا طرہ امتیاز رہا ہے کہ وہ 2008 سے زعفرانی کیمپ کی تائید کرتی آئی ہے ۔ اگر ماضی کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلے گا کہ اس نشست پر کانگریس کیلئے کامیابی حاصل کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا جتنا کہ بی جے پی کیلئے ۔ ماؤسٹوں سے متاثر بستر علاقہ میں اسمبلی کی 12 نشستوں کے منجملہ کانگریس کو 8 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی ۔