ممبئی 8 مئی (سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹر مہاراشٹرا پرتھوی راج چاوان وزیراعظم منموہن سنگھ کے وفادار نہیں تھے جبکہ اُنھوں نے 2009 ء میں کانگریس کی انتخابی کامیابی کا سہرا منموہن سنگھ کے بجائے راہول گاندھی کے سر باندھا تھا۔ سابق مشیر ذرائع ابلاغ برائے وزیراعظم سنجے بارو نے کہاکہ 2009 ء میں جب کانگریس نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی تو چاوان کا خیال تھا کہ یہ کامیابی راہول گاندھی کی وجہ سے ہے۔ وہ اپنی کتاب کی رسم اجراء کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ اُنھوں نے کہاکہ 2009 ء میں کانگریس نے عام انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کی تھی۔ وہ 2004 ء سے 2008 ء تک وزیراعظم کے مشیر برائے ذرائع ابلاغ تھے۔ اُنھوں نے کہاکہ اُن کا ایسا ہی احساس ہے لیکن جب وہ اجتماعی مباحث کا ٹی وی پر مشاہدہ کررہے تھے کہ کیا یہ سونیا گاندھی کی کامیابی کی یا منموہن سنگھ کی تو چاوان نے جو اُس وقت وزیراعظم کے دفتر میں تھے، کہاکہ یہ راہول گاندھی کی کامیابی تھی۔ اُنھوں نے کہاکہ وہ بھی یہاں موجود تھے اور سب کچھ دیکھ رہے تھے۔ اُن کا خیال تھا کہ اِس شخص کو ملازمت منموہن سنگھ کی وجہ سے ملی اور یہ کتنا غدار ہے۔ سنجے بارو نے کہاکہ ایک عرصہ سے اِن کا خیال تھا کہ منموہن سنگھ کو وزیراعظم کے عہدہ سے مستعفی ہوجانا چاہئے حالانکہ اُنھوں نے اِس کا کبھی برسرعام اظہار نہیں کیا۔ جب بھی وہ وزیراعظم سے ملاقات کرتے تو اُن سے کہا کرتے تھے کہ آپ آخر کتنا عرصہ اِس طرح کی مصیبت اُٹھائیں گے براہِ کرم مستعفی ہوجایئے۔ آخرکار جب راہول گاندھی ٹی وی پر آئے اور اُنھوں نے کہاکہ کابینی فیصلہ مجرم افراد کو انتخابی مقابلہ میں شرکت کرنے کی اجازت دیتا ہے تو یہ کتنا غلط فیصلہ تھا۔ اُنھوں نے ٹی وی پر بیان دیا کہ منموہن سنگھ کو مستعفی ہوجانا چاہئے۔ اُنھوں نے اپنی بیٹی کا ایس ایم ایس وصول ہونے کا تذکرہ بھی کیا جس میں کہا گیا تھا کہ وہ بھی میرے خیال سے اتفاق کرتی ہے۔ سنجے بارو نے وزیراعظم کی بیٹیوں کے نام کا انکشاف کرنے سے گریز کیا جنھوں نے اُنھیں ایس ایم ایس روانہ کیا تھا۔ اُنھوں نے کہاکہ 2009 ء میں کانگریس کی کامیابی دیہی روزگار طمانیت قانون کی وجہ سے نہیں تھی بلکہ شہری رائے دہندوں کی تائید کا نتیجہ تھی۔ مدھیہ پردیش، راجستھان، اترپردیش جیسی ریاستوں میں شہری رائے دہندوں نے کانگریس کی تائید کی تھی، اِس کے بعد کانگریس نے کیا کیا۔ کوئمبتور، پونے ، حیدرآباد، بنگلور اور ممبئی جیسے تمام شہری مراکز نے کانگریس کو ووٹ دیئے تھے۔