پی ڈی پی کے ساتھ نظریاتی اختلافات کا اعتراف : راج ناتھ سنگھ

نئی دہلی 9 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) جموں و کشمیر میں علیحدگی پسند لیڈر مسرت عالم کی رہائی پر تنقیدوں کا سامنا کر رہی حکومت نے آج اعتراف کیا کہ بی جے پی اور پی ڈی پی کے مابین نظریاتی اختلافات ہیں ۔ حکومت نے کہا کہ وہ قومی سالمیت کیلئے کسی بھی طرح کی قربانی دینے کو تیار ہے ۔ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے راجیہ سبھا میں ایک بیان دیتے ہوئے کہا کہ کسی کو بھی چاہے وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو ملک کی سالمیت اور اتحاد سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائیگی ۔ انہوں نے مسرت عالم کی رہائی پر ارکان کے اندیشوں کو دور کرنے کی کوشش کی ۔ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ اس سارے مسئلہ میں کوئی پوشیدہ عزائم نہیں ہیں اور مرکز نے ریاستی حکومت سے جواب طلب کئے ہیں ۔ بی جے پی بھی ریاستی حکومت کا حصہ ہے ۔ وزیر داخلہ نے کانگریس کی تشویش کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بی جے پی اور پی ڈی پی کے مابین نظریاتی اختلافات ہیں ۔ ماضی میں ہمارے کبھی بھی پی ڈی پی کے ستاھ تعلقات نہیں رہے ۔ وہ صرف 10 دن سے ہمارے ساتھ ہیں۔ جو کچھ بھی اثرات اس جماعت پر ہیں وہ کانگریس کے ہوسکتے ہیں کیونکہ کانگریس کے ماضی میں پی ڈی پی کے ساتھ تعلقات رہے ہیں اور دونوں کی مخلوط حکومت چلی ہے ۔ یہ واضح کرتے ہوئے کہ جموں وکشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ تھا ‘ ہے اور رہیگا انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی چاہے وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو ملک کی سالمیت اور اتحاد و سلامتی سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائیگی ۔ ہم اس مسئلہ پر جو کچھ بھی قربانی دینی ہوگی اس سے گریز نہیں کرینگے ۔ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ وہ وزیر اعظم کی جانب سے ایوان میں بیان دے رہے ہیں۔ اس وقت وزیر اعظم ایوان میں موجود تھے ۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں حکومت سازی میں کوئی خفیہ ایجنڈہ نہیں تھا اور نہ ہی کوئی پس پردہ بات چیت ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی غدار سے کسی سمجھوتہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ایجنڈہ کبھی خفیہ نہیں رہا ۔ یہ ہمیشہ واضخ رہا ہے ۔ ہم وہ نہیں ہیں جو پردے کے پیچھے کام کرتے ہیں۔ انہوں نے تشکیل حکومت سے قبل مفتی سعید اور وزیر اعظم مودی کی ملاقات کو معمول کی خیرسگالی ملاقات قرار دیا ۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ہفتہ کو جیسے ہی مسرت عالم کو رہا کیا گیا مرکزی حکومت نے ریاست سے وضاحت طلب کی ہے ۔ انہوں نے ادعا کیا کہ ریاست کی وضاحت اطمینان بخش نہیں تھی اور مزید وضاحتیں طلب کی جائیں گی ۔ اگر ضرورت پڑ جائے ریاست کو سخت ہدایات دی جائیں گی ۔ مرکزی حکومت ایسا کرنے سے گریز نہیں کریگی ۔ ریاست میں پی ڈی پی کے ساتھ حکومت سازی کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چونکہ کسی بھی جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی تھی اس لئے بی جے پی نے ریاست کی ترقی اور خوشحالی کے مقصد سے پی ڈی پی کے ساتھ مخلوط حکومت بنائی ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ ایوان کو یہ تیقن دینا چاہتے ہیں کہ ان کی حکومت عوامی تحفظ اور عوامی سلامتی پر کسی طرح کا سمجھوتہ نہیں کرسکتی ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری سیاست حکومت کیلئے نہیں ہے بلکہ قوم کی تعمیر کیلئے ہے ۔ قبل ازیں کانگریس رکن کے وی پی رامچندر راؤ نے ایوان میں اصرار کیا تھا کہ ایوان میں کانگریس کے لیڈر غلام نبی آزاد کو اظہار خیال کرنے کی اجازت دی جائے ۔ اپوزیشن کا مطالبہ تھا کہ وزیر اعظم ایوان میں بیان دیں تاہم وزیر داخلہ نے بیان دیا ۔