ایم اے کی طلبہ وداعی تقریب سے اطہر سلطانہ کا خطاب
نظام آباد:10؍ اپریل(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ایم اے سال اول شعبہ اردو تلنگانہ یونیورسٹی کی جانب سے ایم اے سال دوم کے طلباء و طالبات کو ان کے دو سالہ کورس کی تکمیل پر ان کے اعزاز میں وداعی تقریب یونیورسٹی کالج میں منعقد کی گئی۔ جس کی صدارت صدر شعبہ اردو تلنگانہ یونیورسٹی ڈاکٹر اطہر سلطانہ نے کی۔ جبکہ مہمانان اعزازی کی حیثیت سے ڈاکٹر موسیٰ اقبال چیرمین بورڈ آف اسٹیڈیز شعبہ اردو تلنگانہ یونیورسٹی اور ڈاکٹر محمد عبدالقوی اسسٹنٹ پروفیسر و اسسٹنٹ پبلک ریلیشن آفیسر تلنگانہ یونیورسٹی نے شرکت کی۔ اس وداعی تقریب کا آغاز سید لئیق متعلم ایم اے سال اول کی حمد باری تعالیٰ و نعت شریف سے ہوا۔ بعدازاں صدر شعبہ اردو ڈاکٹر اطہر سلطانہ نے اپنی نصیحت آمیز تقریر میں طلباء و طالبات پر زوردیا کہ وہ پوسٹ گریجویشن کی تکمیل کے بعد تعلیم کو ترک نہ کریں بلکہ حصول تعلیم کے اپنے شوق و ذوق کو جاری رکھتے ہوئے پی ایچ ڈی میں داخلہ کی تیاری کا آغاز کرے۔ صدر شعبہ اردو تلنگانہ یونیورسٹی نے اپنے سلسلہ تقریر کو جاری رکھتے ہوئے علم کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالی اور بے عمل علم کو جہالت سے تعبیر کیا۔ ڈاکٹر اطہر سلطانہ نے طلبہ پر زوردیا کہ وہ علم کو اپنی عملی زندگی کیلئے مشعل راہ بنائے اور بعد تکمیل حصول روزگار کی کوششوں کو جاری رکھتے ہوئے درس و تدریس کے مقدس پیشہ سے وابستہ ہوجائیں۔ ڈاکٹر موسیٰ اقبال چیرمین بورڈ آف اسٹیڈیز شعبہ اردو تلنگانہ یونیورسٹی نے اپنی عالمانہ تقریر میں طلبہ سے کہاکہ وہ تعلیم کی تکمیل کے بعد بھی اپنے مطالعہ کے عمل کو جاری رکھیں اور وقت فرصت اردو لغت کا مطالعہ کرتے ہوئے اردو ادب میں فصاحت و بلاغت پیدا کریں۔ انہوں نے طلباء و طالبات کے درخشاں مستقبل کیلئے اپنی نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر محمد عبدالقوی اسسٹنٹ پروفیسر و اسسٹنٹ پبلک ریلیشن آفیسر تلنگانہ یونیورسٹی نے اپنے ناصحانہ انداز میں طلبہ سے خواہش کی کہ وہ اپنے تعلیمی سفر کو ہمیشہ جاری و ساری رکھیں۔ انہوں نے طلبہ سے کہاکہ ایم اے کے امتحانات کے فوری بعد وہ مسابقتی امتحانات کی تیاری میں اپنے آپ کو وقف کردیں اور ڈگری لکچرر و یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر عہدہ کی اہلیت کیلئے یو جی سی‘ نیٹ‘ سیٹ امتحانات میں شرکت کرتے ہوئے کامیابی حاصل کریں۔ جس سے شعبہ درس و تدریس میں حصول روزگار کی راہیں ہموار ہوں گی۔ ڈاکٹر عبدالقوی نے ان اردو طلباء وطالبات کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہاکہ وہ اپنے علمی و ادبی مطالعہ کو جاری رکھتے ہوئے اردو زبان و ادب پر مہارت حاصل کریں کیونکہ ریاست تلنگانہ میں اردو سے وابستہ ماہرین کیلئے کافی مواقع فراہم ہونے والے ہیں۔ انہوں نے طلبہ سے کہاکہ وہ صحافت جیسے معزز پیشہ سے بھی وابستہ ہوتے ہوئے اپنے آپ کو ایک بہترین مترجم و صحافی ثابت کرسکتے ہیں۔ جس کیلئے منصوبہ بند طریقہ سے تیاری درکار ہے۔ قبل ازیں محمد شاہد رضا متعلم بی اے سال اول نے تقریب کی کارروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے ایم اے سال دوم کے طلباء و طالبات سے دوسالہ ایم اے کورس کے درمیان پیش آئے اپنے شخصی تجربات و خیالات سے واقف کروانے کی خواہش کی جس پر سال دوم کے طلبہ محمد علیم‘ محمد ایاز‘ عالیہ بیگم اور آفرین بیگم نے اپنے دوسالہ تعلیمی سفر کی تکمیل کے دوران پیش آئے حقائق و تجربات کو سال اول کے طلباء و طالبات کے سامنے رکھا اور کہاکہ اساتذہ اکرام کی تعلیمی نصیحت اور فرمانبرداری میں ہی ہماری کامیابی ممکن ہے۔ آفرین بیگم نے سال اول کے طلبہ سے کہاکہ وہ ہم سے جو غلطیاں و کوتاہیاں سرزد ہوئیں ان سے دور رہیں اور جماعتوں میں پابندی کے ساتھ بلا ناغہ حاضر ہوتے ہوئے اساتذہ اکرام کے لکچرز و مفید مشوروں سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے اپنے آپ کو قابل و ہونہار طالب علم ثابت کریں۔ آفرین بیگم نے اساتذہ کو طلبہ کیلئے رول ماڈل قراردیا اور شعبہ کی ترقی کیلئے کی جانے والی تعلیمی سرگرمیوں اور اصلاحات کو خوش آئندہ قراردیا۔ محمد شاہد رضا کے شکریہ پر تقریب کا اختتام عمل میں آیا۔ بعدازاں سال اول کے طلباء و طالبات کی جانب سے سال دوم کے طلبہ کیلئے پرتکلف عصرانہ ترتیب دیا گیا۔