پیپرملز کے ملازمین کی بھوک ہڑتال جاری

سرپور ٹاون /18 مارچ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) سرپور پیپر ملز کے اسٹاف اور ورکرس کی زنجیری بھوک ہڑتال جاری ہے جبکہ فیاکٹری چھ ماہ کے طویل عرصے سے بند پڑی ہے ۔ تقریباً چار ہزار مزدور تنخواہوں سے محروم ہیں اور ورکرس فیاکٹری بند ہوجانے کے غممیں خودکشی کر رہے ہیں اور کئی قلب پر شدید حملہ کے سبب اپنی جانوں سے ہاتھ دھوبیٹھے ۔ اس ضمن میں پریسیڈنٹ تلنگانہ راشٹرا یونین آف ورکنگ جرنلسٹ TUWJ مسٹر پرکاش ریڈی اور IJU کے سنٹرل ممبر مسٹر چندر شیکھر راؤ اور مسٹر کے سرینواس کے علاوہ ان کے دیگر ساتھی جرنلسٹ منچریال سے تشریف لانے کے بعد مزدوروں کی زنجیری بھوک ہڑتال میں ان سے ہمدردی کا جذبہ ظاہر کرنے کیلئے حصہ لیا۔ اس موقع پر مسٹر پرکاش ریڈی نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ فیاکٹری کی انتظامیہ کی تساہلی کی وجہ مذکورہ فیاکٹری چھ ماہ سے بند پڑی ہے ۔ مزدور تنخواہوں سے محروم ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آریہ فیاکٹری بند ہوگئی تو نوتشکیل شدہ ریاست تلنگانہ کی حکومت پر ایک بدنما داغ ہوگا ۔ انہوں نے مقامی سیاسی لیڈرس اور خصوصاً ہوم منسٹر مسٹر نائنی نرسمہا ریڈی جو سرپور پیپرملز کی مزدور یونین کے پریسیڈنٹ بھی ہیں سے اپیل کی کہ سرپور پیپر ملز کے ملزمین کے مسئلہ کی یکسوئی کیلئے فیاکٹری کی انتظامیہ پر دباؤ ڈالیں اور فیاکٹری کی کشادگی کیلئے حتی الامکان کوشش کریں ۔ اس موقع پر کاغدنگر پریس کلب کے اراکین ، جی سرینواس ، رحیم رامیش ، آصف علی خان ، مہیش کمار اور معراج خان موجود تھے ۔