پرینکا گاندھی’ میں اپنی فیملی کی حمایت میں ہوں‘۔

شوہر کو ای ڈی دفتر پر چھوڑا اورکانگریس ہیڈکوار ٹر پہنچ گئیں۔

نئی دہلی۔ پرینکا گاندھی نے اپنے شوہر رابرٹ واڈرا کے اردگرد گھوم رہے تنازعات سے مقابلے میں وہ شرمندہ نہیں اس بات کو پیش کرنے کی کوشش میں پرینکا گاندھی نے چہارشنبہ کے روز یہ کہتے ہوئے کہ ’’ میں اپنی فیملی کی حمایت میں ہوں‘ وہ کانگریس ہیڈکوارٹر پہنچیں۔]

پرینکا نے رپورٹرس نے ووڈرا کو ای ڈی دفتر پر چھوڑ نے کے بعد دوپہر میں رپورٹرس کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ’’ وہ میرے شوہر ہیں‘ پیغام کیا؟۔ وہ میرے فیملی ہیں‘ میں اپنی فیملی کی حمایت کررہی ہوں‘‘۔

پرینکا گاندھی کانگریس کی جنرل سکریٹری اور انچارج ایسٹرن اترپردیش کانگریس ہیڈکوارٹر کے باہر کھڑے رپورٹرس کی جانب سے پوچھنے پر کہ وہ اپنی شوہر کے ساتھ ای ڈی دفتر پہنچ کر کیا پیغام دینا چاہتی پر اپنا ردعمل پیش کیاتھا۔

ای ڈی دفتر تک شوہر کے ساتھ جانے او ردوپہر میں پارٹی دفتر پہنچے کاانتخاب کرتے ہوئے پرینکا نے اس بات کی وضاحت کردی ہے کہ وہ مشکل حالات سے مقابلے کرنے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔

انہو ں نے اپنے اس اقدام سے اپنے سیاسی مخالفین کو اس بات کا جواب دیا ہے کہ وہ ان اپنی تیار کردہ حکمت عملی پر گامزن ہیں۔اب تک واڈرا کی عوامی میں شبہہ بی جے پی کے پروپگنڈہ یا پھر کسی قانونی نوٹس سے زیادہ خراب ہے ‘ انہیں اب تک پرینکا کے لئے مجبور کے طور پر دیکھا گیاتھا۔

چاہئے وہ اپنے شوہر کے متعلق غلط رکھتی ہوں اس پر سیاسی حلقوں میں سالوں سے بحث ہوئی ہے۔انہوں نے جمعرات کی دوپہر کے روز ان تمام قیاس ارائیوں او ربدگمانیو ں کوغلط ثابت کردیا۔

سفید رنگ کی ٹویوٹا لینڈ کروسیر میں واڈرا کے ساتھ سکیورٹی کے گھیر میں انہوں نے شوہر کو جام نگرہاوز میں واقع ایجنسی کے دفتر کے باہر چھوڑا۔جیسا ہی ان کا قافلہ گیا ‘ یہ پیغام کہ ان کی سیاست کو شوہر کے لئے مشکلات پیدا کرنے خراب نہیں کیاجاسکے گا۔۔

جیسے ہی وہ کانگریس ہیڈکوارٹر پہنچی وہاں پر موجود لوگوں نے پرینکا پرینکا پکارنا شروع کردیا۔

کمیرہ مین اپنے نمائندوں کے ساتھ پہنچ گئے۔ چوبیس گھنٹے قبل انہیں مقرر کیاگیا دفتر میں وہ بیٹھیں‘ پارٹی دفتر میں جوش کا ماحول رہا۔

کچھ لوگوں سے ملاقات کی اور بے شمار لوگ ان سے ملاقات کے لئے روم کے باہر کھڑے تھے جس میں ذرائع ابلاغ کے نمائندے بھی شامل تھے۔

کچھ دیگر ایس پی جی کے جوانوں اور دہلی پولیس کے لوگوں نے انہیں گاڑی میں بیٹھانے کے لئے زبردستی وہا ں پر کھڑے لوگوں کے ہجوم کو دھکا دے کر ہٹایا

Leave a Comment