نئی دہلی۔ 12 اگست ۔ ( سیاست ڈاٹ کام )راجیہ سبھا میں آج جنتادل یو کے ایک رکن نے سوال اُٹھایا کہ حکومت نے پاکستان کے ساتھ معتمد خارجہ سطح کی بات چیت منعقد کرنے کا فیصلہ کیوں کر کیا ہے اور فائر بندی کی لگاتار خلاف ورزیوں کے پس منظر میں اُس ملک کے ساتھ نمٹنے کے معاملے میں اس کی پالیسی کیا ہے ؟ وقفہ صفر کے دوران یہ مسئلہ اُٹھاتے ہوئے پون ورما (جے ڈی ۔یو) نے کہاکہ نئی حکومت کا جائزہ لینے کے بعد سے سیزفائر کی 19 خلاف ورزیاں ہوچکی ہیں ،محض دو ماہ میں اس طرح کے 19 واقعات پیش آئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ حرکتیں پاکستان میں واقع دہشت گرد کیمپوں سے ہورہی ہیں اور مسلسل خلاف ورزی کا یہی مطلب ہے کہ سرمائی دنوں میں ہمارے پاس وادی سے کئی دہشت گردوں کو گھسانے کی کوششیں ہوں گی ۔ وادی میں دہشت گردانہ سرگرمیاں بڑھ جانے پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے انھوں نے یاد دلایا کہ بی جے پی نے لوک سبھا چناؤ سے قبل پاکستان کے خلاف کافی سخت موقف اختیار کیا تھا لیکن پھر اس نے پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کو انتخابات کے بعد مدعو کیا اور اب 25 اگست کو معتمد خارجہ سطح کی بات چیت منعقد کی جارہی ہے ۔