نئی دہلی ۔21 اپریل (سیاست ڈاٹ کام )پاکستان کے خلاف دوطرفہ سیریز کے تنازعہ کے حل کے لئے آئی سی سی کی جانب سے کمیٹی کے قیام کے بعد ہندوستان نے اپنا موقف مضبوط کرنے کے لئے تیاریاں شروع کر دی ہیں۔بی سی سی آئی نے 2014 میں پی سی بی کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت 6 سیریز کھیلی جانی تھی جس میں سے 4 سیریز کی میزبانی پاکستان اور 2 کی ہندوستان کو کرنی تھی۔لیکن ہندوستان نے اس معاہدے پر عمل نہیں کیا کیونکہ حکومت کی جانب سے منظوری نہیں ملی جس کے بعد ہندوستان سیریز کھیلنے سے انکار کرتا رہا اور پی سی بی نے ہندوستانی بورڈ کو 70ملین ڈالرز ہرجانے کا نوٹس بھیجا۔یہ معاملہ بعدازاں آئی سی سی کے پاس چلا گیا جس نے حال ہی میں اس تنازعہ کے حل کے لیے مائیکل بیلف کی سرپرستی میں 3رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے ۔اس سلسلے میں پاکستان کے مقدمے کو مضبوط قرار دیا جا رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہندوستان نے ابھی سے اس حوالے سے اپنی تیاری شروع کردی ہے۔بی سی سی آئی کے قائم مقام سیکریٹری امیتابھ چوہدری نے 2014 سے اب تک بورڈ میں موجود تمام عہدیداروں کو خط لکھ اس سلسلے میں ہونے والی مکمل گفتگو کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔جن عہدیداروں کو خط لکھا گیا ہے ان میں ششانک منوہر، این سری نواسن، سنجے پاٹیل، انوراگ ٹھاکر اور آئی پی ایل کے سابق چیف آپریٹنگ آفیسر سندر رامن بھی شامل ہیں۔ دونوں بورڈز کے درمیان ہوئی تمام تر گفتگو کا ریکارڈ طلب کیا گیا ہے۔علاوہ ازیں آئی سی سی کو بھی ایک خط تحریر کیا ہے جس میں درخواست کی گئی ہے کہ وہ اب تک آئی سی سی اجلاسوں میں پاکستان اور ہندوستان کے مابین تمام تر گفتگو کا ریکارڈ فراہم کرے۔ذرائع کے مطابق ہندوستان مقدمے میں یہ دلیل پیش کرے گا کہ اس نے پاکستان سے سیریز کھیلنے کی حامی بگ تھری میں ووٹ اور مکمل حمایت حاصل کرنے کی شرط پر بھری تھی جو آسٹریلیا، انگلینڈ اور ہندوستان پر مشتمل تھا لیکن کیونکہ یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرنے میں ناکام رہا اور ہندوستان کا آئی سی سی کے ریونیو میں حصص بھی کم ہو گیا ہے لہٰذا پاکستان کے ساتھ معاہدے بھی منسوخ سمجھے جائیں۔ابھی تک اس مقدمے کی سماعت کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا لیکن اکتوبر میں کی سماعت کرے گی۔