نئی دہلی ۔ 19 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام)پارلیمنٹ میں اپوزیشن اور سرکاری بنچوں کی طرف سے احتجاج اور جوابی ردعمل کا سلسلہ آج بھی جاری رہا جس کے نتیجہ میں راجیہ سبھا اور لوک سبھا دونوں ایوان میں شاید ہی کچھ قابل قدر کام ہوپایا۔ مختلف مسائل پر آج راجیہ سبھا میں بی جے پی اور اپوزیشن پارٹیوں کانگریس، ، اے آئی اے ڈی ایم کے ، وائی ایس آر کانگریس اور تلگودیشم پارٹی کی طرف سے شوروغل کے درمیان ایوان میں کوئی کام کاج نہیں ہو سکا اور کارروائی کل تک کے لئے ملتوی کر دی گئی۔ صبح کارروائی شروع ہونے اور ضروری دستاویز ایوان کی میز پر رکھے جانے کے بعداے آئی اے ڈی ایم کے ، تلگودیشم پارٹی اور وائی ایس آر کانگریس کے رکن ایوان کے بیچوں بیچ پہنچ کر کاویری آبی تنازعہ اور آندھراپردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ دیئے جانے کے مطالبات پرتختیاں لہرانے لگے اور نعرے بازی شروع کردی گئی ۔ اسی دوران کانگریس کے ارکان بھی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے ذریعہ رافیل سودے کی جانچ کے مطالبات پر نعرے بازی کرنے لگے ۔اس کے فورا بعد بی جے پی کے ارکان نے کانگریس صدر راہل گاندھی سے معافی مانگنے کے سلسلے میں تختیاں لہراتے ہوئے اپنی سیٹ سے آگے بڑھ گئے ۔ اس کے جواب میں کانگریس کے رکن بھی ایوان کے وسط میں آ گئے۔ شوروغل کے بیچ ہی مرکزی پارلیمانی امور کے وزیر مملکت وجے گوئل نے کہا کہ منگل کو ایوان میں دیئے گئے ان کے بیان کو کانگریس کے ڈپٹی لیڈر آنندشرما نے غلط طریقے سے پیش کیا ہے جسے ایوان کی کارروائی سے ہٹایا جانا چاہئے۔قبل ازیں کانگریس،اے آئی اے ڈی ایم کے اور تیلگودیشم پارٹی(ٹی ڈی پی)کے ہنگامے کی وجہ سے لوک سبھا میں لنچ سے پہلے کوئی کام کاج نہیں ہوسکا اور ایک بار ملتوی کئے جانے کے بعد دوپہر12بجے ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع ہونے پر 20منٹ کے اندر ہی دوپہر دوبجے تک کے لئے ملتوی کرنی پڑی۔دوپہر 12بجے جیسے ہی ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی ویسے ہی اے آئی اے ڈی ایم کے ،کانگریس اور ٹی ڈی پی کے اراکین اپنے اپنے مطالبات لے کر اسپیکر کی نشست کے سامنے آگئے ۔وہ مطالبات لکھی تختیاں ہاتھوں میں لئے زور زور سے نعرے بازی کررہے تھے ۔