پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں خیر سگالی کا ماحول

نئی دہلی9 جون (سیاست ڈاٹ کام)پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے عام انتخابات کے بعد پہلے مشترکہ اجلاس سے صدر جمہوریہ ہند پرنب مکرجی کے خطاب کے موقع پر ایوان میں عدیم المثال خیر سگالی کا ماحول دیکھا گیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے سیاسی حریف راہول گاندھی کو اُن کا ہاتھ گرمجوشی سے تھامتے ہوئے مبارکباد پیش کی جبکہ صدر کانگریس سونیا گاندھی دریں اثناء بی جے پی کے سینئر قائد ایل کے اڈوانی سے بات چیت میں مصروف دیکھی گئیں۔ سیاسی حریفوں نے باہم مبارکبادیوں کا تبادلہ کیا۔ مودی اور راہول گاندھی کو ایک دوسرے کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ انہوں نے کانگریس کے سینئر قائدین موتی لال ووہرہ اور جئے رام رمیش کو بھی مبارکباد پیش کی ۔جیسے ہی مودی حسب معمول کرتے اور سدری میںملبوس راہول گاندھی کے قریب آئے انہوں نے مسکراتے ہوئے گرمجوشی سے ان سے مصافحہ کیا ۔ بعدازاں کئی پارٹیوں کے قائدین نے راہول گاندھی کو گھیر لیا ۔ غالباً یہ پہلا موقع تھا جب مودی نے راہول گاندھی کو مبارکباد پیش کی ۔ لوک سبھا انتخابات کے دوران دونوں کے درمیان سخت زبانی تکرار ہوچکی ہے ۔ نریندر مودی بی جے پی کے وزارت عظمی کے امیدوار تھے ۔ انہوں نے راہول گاندھی پر کئی بار انہیں ’’شہزادہ ‘‘ کے نام سے مخاطب کرتے ہوئے ان پر سخت تنقید کی تھی اور انتخابی مہم کے دوران گاندھی خاندان کو نشانہ بنایا تھا ۔ صدر جمہوریہ کے خطاب کے آغاز سے قبل سونیا گاندھی کو اڈوانی کے ساتھ طویل گپ شپ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ ان کی نشست پارلیمنٹ کے پرہجوم مرکزی ہال میں سونیا گاندھی کی نشست سے متصل تھی۔ کئی ارکان پارلیمنٹ بشمول چندن مترا ، بابل سپریو ، راجیہ وردھن راتھوڑ اور منوج تیواری جو نشست حاصل کرنے سے قاصر رہے تھے صدر جمہوریہ کے 53 منٹ طویل خطاب کے دوران کھڑے رہے ۔ جب صدر جمہوریہ نے اعلان کیا کہ حکومت خواتین پر تشدد قطعی برداشت نہیںکرے گی اور خواتین کیلئے پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں 33 فیصد تحفظات فراہم کئے جائیں گے۔سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ اور اڈوانی نے بھی اپنی میزیں تھپتھپاتے ہوئے اس اعلان کا خیر مقدم کیا ۔ منموہن سنگھ پہلی صف میں مودی اور جیٹلی کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ۔ حکومت کی جانب سے گنگا کی صفائی اور کشمیری پنڈتوں کی آبائی زمینات کی اُن کو واپسی کے اعلان پر ارکان کی جانب سے زبردست ستائش کی گئی ۔ مرکزی وزیر روی شنکر پرساد کو ہر قطار میں جاکر صدر جمہوریہ کی تقریر کے آغاز سے قبل ارکان پارلیمنٹ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے دیکھا گیا ۔ لوک سبھا کے کانگریس قائدین ملک ارجن کھرگے اور راجیہ سبھا کے رکن غلام نبی آزاد اسی قطار میں ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ۔