راجیہ سبھا میں کوئی کام کاج نہیں ہوسکا۔ لوک سبھا میں ایک بِل کی منظوری ممکن ہوئی
نئی دہلی 17 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) پارلیمنٹ میں مختلف مسائل پر اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی اور دونوں ایوان کی کارروائی کئی مرتبہ ملتوی کرنا پڑرہا ہے۔ اس کے نتیجہ میں طے شدہ کام کاج بُری طرح متاثر ہے۔ آج راجیہ سبھا کو رافیل اور کاویری کے مسئلوں پر شوروغل کے بعد دن بھر کے لئے ملتوی کردیا گیا جبکہ اپوزیشن کے احتجاج کی وجہ سے ہی لوک سبھا کی کارروائی تیسری مرتبہ سہ پہر تین بجے تک ملتوی ہوئی۔تاہم ، ایوان زیریں میں جنس تبدیل کرنے والی کمیونٹی کو بااختیار بنانے سے متعلق بِل منظور ہوا۔ بِل کی تجویز ہے کہ اُنھیں علیحدہ شناخت فراہم کی جائے۔ راجیہ سبھا میں متواتر پانچویں روز ایوان کا دن بھر کے لئے التواء ہوا ہے۔ چیرمین ایم وینکیا نائیڈو نے اجتماع کے چند منٹ میں ہی ایوان کو ملتوی کردیا کیوں کہ ٹاملناڈو کی پارٹیاں ڈی ایم کے اور انا ڈی ایم کے ایوان کے وسط میں پہونچ گئے تھے اور ٹریژری بنچوں کی طرف سے نعرے بازی ہورہی تھی۔ اپوزیشن لیڈر اور سینئر کانگریسی غلام نبی آزاد نے کہاکہ اُنھوں نے فرانس سے رافیل جیٹ طیاروں کی خریدی پر سپریم کورٹ کو مبینہ طور پر گمراہ کرنے پر حکومت کو مباحث کے لئے نوٹس دی ہے۔ اس کے جواب میں سرکاری بنچوں کی طرف سے نعرے بازی ہوئی اور کانگریس سے معذرت خواہی کا مطالبہ کیا گیا کہ سپریم کورٹ نے اِس معاملت کو کلین چٹ دے دی ہے۔ چیرمین نائیڈو نے غلام نبی آزاد کی بات کاٹتے ہوئے کہاکہ اُن کی نوٹس وصول ہوچکی ہے لیکن یہ مسئلہ سپریم کورٹ کے زیرغور معاملہ ہے۔ اُس کے بعد اُنھوں نے کارروائی کو کل تک کے لئے ملتوی کردیا لیکن اِس سے قبل اُنھوں نے ریمارک کیا ’یہ سب کیا ہورہا ہے‘۔ اُدھر لوک سبھا میں اسپیکر سمترا مہاجن نے شروع میں تو کارروائی کو معمول کے مطابق جاری رکھا اور جنس تبدیل کرنے والے افراد سے متعلق بِل پر بحث شروع کرائی۔